برگِ سبز — Page 38
برگ سبز خاکسار کو جب ضلع ملتان میں خدمت کا موقع ملا ، تو اس وقت یہ ضلع بہت بڑا تھا اور بورے والا بھی اسی ضلع میں تھا۔بورے والا اپنی منڈی اور گندم کا علاقہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اچھا خوشحال علاقہ سمجھا جاتا ہے۔خاکسار وہاں گیا تو ہمارے میزبان باتوں باتوں میں پوچھنے لگے کہ آپ کو شیعہ مذہب کے متعلق بھی کچھ واقفیت ہے۔مجھے اس سوال سے کچھ تعجب ہوا مگر تفصیل کا علم ہونے پر پتہ چلا کہ وہاں بعض ایسے شیعہ اصحاب موجود ہیں جو گفتگو کے ماہر ہیں اور اپنی باتوں سے لا جواب کر دیتے ہیں۔خاکسار کے کہنے پر ان کو پیغام بھیج کر بلوایا گیا۔ان سے بہت خوشگوار ماحول میں بات شروع ہوئی لیکن ابھی گفتگو شروع ہی ہوئی تھی کہ ان کو اپنی کسی کمی کا احساس ہوا اور انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ آئندہ کسی مقررہ تاریخ پر گفتگو ہوگی اور ساری رات بات چیت ہوگی۔ہم اس کے لئے تیاری کرلیں گے، آپ بھی تیاری سے آئیں۔بہر حال ان سے تاریخ وغیرہ کا تعین ہو گیا۔مقررہ تاریخ پر خاکسار اور مکرم مولا نا عبدالحکیم صاحب بورے والا پہنچ گئے۔احباب ایک ایک کر کے آنے لگے۔شیعہ احباب میں دو صاحب جو نمایاں تھے وہ ماموں بھانجا تھے۔بھانجا صاحب پہلے آگئے اور شاید اپنی تیاری کی وجہ سے یا ہوشیاری کی وجہ سے انہوں نے ماموں کی آمد سے پہلے ہی گفتگو شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ساتھی اور صحابی تو کوئی بھی ہو سکتا ہے مگر وصی اور خلیفہ تو کوئی قریبی ہی ہو سکتا ہے جیسے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ حضرت ہارون کا ذکر ہے۔خاکسار نے جواباً ان کی تعریف کی کہ انہوں نے بات قرآن مجید کی روشنی میں کی ہے جبکہ عام طور پر روایات سے باتوں کو الجھا دیا جاتا ہے۔میں نے کہا کہ آپ کی یہ دلیل بہت مضبوط اور قوی ہوتی اگر حضرت ہارون ہی حضرت موسی کے خلیفہ ہوتے حالانکہ حضرت ہارون تو حضرت موسیٰ کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت موسیٰ کے خلیفہ حضرت یوشع 38