برگِ سبز

by Other Authors

Page 300 of 303

برگِ سبز — Page 300

برگ سبز اس کی مطاع و آقا حضرت محمد سالہ یہ تم کی عظمت و شان کو ظاہر کرے گا۔محمد صلی یا پیہم کے کسی عاشق کو ایسی کسی چیز کو آگ لگانے کی جرات ہوسکتی ہے؟ مسجد سے اٹھنے والے شعلے اور دھواں دنیا کے ہر ملک میں بسنے والے احمدیوں کے دلوں کی آہیں تھیں جو وہ اس ظلم کی وجہ سے بلند کر رہے تھے اور کر رہے ہیں کہ ظالموں نے ایسے غیر اسلامی، غیر اخلاقی، غیر انسانی کام کرنے کے لئے اس عظیم وجود کا نام استعمال کیا جو رحمۃ للعالمین ، جس کے رحم ، محبت ، شفقت اور توجہ سے ہر انسان ہی نہیں کائنات کی ہر چیز حتی کہ جانور اور پرندے بھی باہر نہ تھے۔جس کی تعلیم یہ تھی کہ دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے“ جس نے ہر منفی انداز فکر کی نفی کرتے ہوئے مثبت انداز فکر میں سوچنا اسلام کا نشان بنادیا اور السلام علیکم اسلام کا امتیاز بنا دیا۔یہی وجہ ہے کہ احمدیوں نے ہمیشہ گالیاں سن کے دعا دو، پاکے دکھ آرام دو د کو اپنا لائحہ عمل بنایا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اپنے رنگ میں ” انما اشکو بثي وحزني الى اللہ “ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: چلائے کوئی جا کے مزار مسیح پر نصرت جہاں کی گود کے پالوں کو لے گئے ہر احمدی جو قرآن مجید وحدیث کے مصداق حضرت مسیح موعود کی تعلیم پر عمل کرتا ہے وہ الدار کا مقیم اور حضرت اماں جان نصرت جہاں کی گود کا پالا ہوا ہے۔وہ شکور بھائی چشمے والا ہو یا کوئی اور کارکن اور واقف زندگی۔پھیر دے اے میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار 300