برگِ سبز — Page 299
برگ سبز سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔اس قصبہ کا ہر شہری اور ہر باسی اور باشندہ احمدیوں کی مخالفت میں کچھ بھی کہے لیکن وہ یہ گواہی ضرور دے گا کہ اس نے اس مسجد سے اللہ کی بڑائی (اللہ اکبر ) کا اعلان ہوتا ہو اسنا ہے۔وہ یہ ضرور بتائے گا کہ اس نے کلمہ شہادت اور حضور صلے یتیم کی رسالت کا ذکر بھی سنا ہے۔100 سال سے زیادہ عرصہ سے اس مسجد نے عبادت اور اذان کی تعلیم دی ہے۔وہ شخص جس نے اس مسجد کو آگ لگائی اس کا ہاتھ آگے لگانے سے پہلے کانپ کانپ نہیں گیا ہو گا کہ اس مسجد کی اینٹ اینٹ اس کے خلاف گواہی دے گی۔وہ کتابیں جو مسجد کے صحن میں ڈھیر کی گئی تھیں ان میں سے سر فہرست تو قرآن مجید تھا۔قرآن مجید کے متعلق اعتراض کر نیوالے یہ اعتراض تو غلط طور پر کرتے ہیں کہ ہم نے ترجمہ اور تفسیر میں کوئی تبدیلی کر دی ہے مگر قرآن مجید کا متن تو وہی ہے جو سب مسلمان مانتے اور پڑھتے ہیں۔آگ لگانے والے کا دل یہ سوچ کر حلق میں نہ آ گیا ہوگا کہ وہ اللہ کے اس کلام کو آگ دکھانے لگا ہے جس کی تبلیغ اور تعلیم کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جو اس کے محبوب صلی ایتم نے دنیا کو بغرض اشاعت و تبلیغ دیا تھا۔آگ لگانے والے نے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو مدنظر رکھا؟ کلام اللہ کی شان کو ذہن میں رکھا؟ قرآن مجید کے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور سال الیتیم کے ارشادات کی تعمیل کی یا ان کی نافرمانی اور گستاخی کا ارتکاب کیا؟ احمدیہ لٹریچر میں کیا ہوتا ہے۔اس کی ہر سطر میں نہیں تو ہر صفحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام یا اسماء حسنٰی میں سے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت یا نام کا ذکر ہوگا۔قریباً ہر صفحہ پر حضرت محمل کا پیام لکھا ہو گا یعنی حضور کی عظمت ، حضور کی شان، حضور کا مقام ، حضور کی صداقت وغیرہ کا ذکر ہوگا۔اس لٹریچر میں حضرت مرزا غلام احمد کا ذکر بھی ضرور ہوگا لیکن یہ ذکر جہاں بھی آئے گا وہاں غلامِ احمد کے طور پر ہی ہو گا۔غلام کی جو بھی حالت ہوگی ، جو بھی مقام ہوگا وہ اس کی غلامی کی وجہ سے 299