برگِ سبز — Page 28
برگ سبز اس زمانے میں تبلیغ کی ممانعت یا زبان بندی کے کالے قوانین کا کوئی تصور نہیں تھا۔تبلیغی واقعات لکھنے سے پہلے ایک اور یاد کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔پاکستان کے ابتدائی دنوں میں جب جامعہ احمد یہ احد نگر میں ہوتا تھا تو خاکسارا ایک دفعہ لاہور سے احمد نگر جارہا تھا۔سردیوں کے دن تھے۔مسافر بالعموم کھیوں یا کمبلوں میں لیٹے ہوئے بیٹھے تھے۔چنیوٹ سے بس آگے نکلی تو احمدیت کی بات شروع ہوگئی۔بس مخالفوں سے بھری ہوئی تھی۔طرح طرح کی آوازیں آنے لگیں۔ایک شخص نے مزاح کے رنگ میں کہا کہ انگریزوں کی نوکری کرنے والے بھی نبوت کا دعوی کرنے لگے۔سب مسافر اس کی اس بات پر خوش ہو کر اسے داد دے رہے تھے۔خاکساران کے سامنے ایک بچہ تھا جو اتنے مجمع میں بات کرنے سے بھی ہچکچا رہا تھا۔تا ہم اس کی بات پر میں نے کہا کہ سورہ یوسف میں حضرت یوسف کی کسی بادشاہ کی نوکری کا ذکر آتا ہے۔میری بات ماحول کے خلاف تھی ایک دم سناٹا اور خاموشی سی ہوگئی۔پھر ایک معمرد یہاتی جو کھیس کی بُکل مارے ہوئے بیٹھا تھا، کہنے لگا: بھئی سچ ہی کہتے ہیں ڈانگ کی چوٹ تو سہی جاسکتی تھی مگر چھلتر کی درد نہیں سہی جاتی۔یہ دیکھوا چھوٹا سا بچہ بھی اتنی بڑی بات کہ گیا ہے۔“ چھتر پنجابی میں پھانس کو اور ڈانگ لاٹھی کو کہتے ہیں ) یہ باتیں اس لئے بیان کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ایسا بچپن نصیب ہوا تھا۔اسی ماحول میں جامعہ احمدیہ اور جامعتہ المبشرین کی تعلیم بھی میسر آ گئی اور آسمان احمدیت کے درخشندہ ستاروں سے کسب فیض کرنے کی سعادت ملی۔خاکسار کی تعلیم کے بعد پہلی تقرری کراچی کی جماعت میں ہوئی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کراچی کی جماعت کئی وجوہ سے منفر داور نمایاں جماعت تھی۔کراچی کے امیر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے چھوٹے 28