برگِ سبز — Page 78
برگ سبز لمبا عصا ہوتا تھا۔ان کے ساتھ بالعموم ہمارے کمال یوسف صاحب اور رشید یوسف صاحب ( حضرت مولوی صاحب کے نواسے بھی نماز کے لئے جاتے ہوئے نظر آتے تھے۔خاکسار کے دادا جان حضرت میاں فضل محمد صاحب اور نانا جان حضرت حکیم اللہ بخش صاحب اسی طرح میرے تایا جان حضرت مولوی عبد الغفور صاحب صحابہ کرام میں شامل تھے۔ہماری دکان کے سامنے شمال کی طرف حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب کا مکان تھا۔ان کے پہلو میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی رہائش تھی۔یہ کوئی چند سوگز کی گلی تھی مگر ہم روزانہ وہاں پر ان دو بزرگ صحابہ کے علاوہ حضرت بھائی شیر محمد صاحب کو دیکھتے تھے جن کی وہاں دکان تھی۔حضرت میر محمد الحق صاحب کو مدرسہ احمدیہ یا دارالشیوخ سے مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھتے تھے۔اسی گلی میں ایک عمارت درزی خانہ کہلاتی تھی۔حضرت مرزا مہتاب بیگ صاحب صحابی وہاں رونق افروز ہوتے تھے۔درزی خانہ کے ساتھ ایک تنگ گلی بہشتی مقبرہ کی طرف جاتی تھی اس گلی میں حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب کا مکان تھا۔حضرت قاضی صاحب اپنے گھر سے کم ہی باہر آتے تھے۔تاہم ان سے استفادہ کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔اسی گلی سے آگے جا کر حضرت مولوی فرزند علی خان صاحب کا مکان تھا۔یہ بزرگ جماعت کے پرانے خادم تھے۔حضرت مصلح موعودؓ ان کے کام کی اکثر تعریف فرماتے۔جماعت کے مالی نظام کا ابتدائی ڈھانچہ انہوں نے تیار کیا تھا اور لمبا عرصہ بطور ناظر بیت المال خدمت بجالاتے رہے۔آپ کو لندن میں بطور امام مسجد لندن خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کمیٹی کے زمانہ میں قیام پاکستان اور آزادی کشمیر کے لئے کام کرنے کی بھی توفیق ملی۔اور کئی نام ذہن میں آرہے ہیں۔کئی نام بھول چکے ہو نگے تاہم یہ چھوٹی سی سڑک دن 78