برگِ سبز — Page 246
برگ سبز کہ وہ کا پیاں اور پروف رجسٹری بھجوایا کرے۔براہین احمدیہ کی طباعت کا انتظام شروع میں حضرت صاحب نے پادری رجب علی کے مطبع سفیر ہند میں فرمایا۔کیونکہ اختلاف مذہب کے باوجود پادری موصوف کو دلی شغف تھا کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور حضرت صاحب کا منشا مبارک بھی براہین احمدیہ کو کتابت و طباعت کے لحاظ سے معیاری اور دیدہ زیب بنانے کا تھا بلکہ ایسی بے جا کفایت شعاری کو جو کتاب کے ظاہری حسن کو ماند کر دے آپ شرک قرار دیا کرتے تھے۔اس لئے مطبع کے گراں نرخ اور بھاری اخراجات کے باوجود آپ کی نظر انتخاب اسی پر پڑی۔چنا نچہ کتاب کا حصہ اول اسی مطبع میں چھپا اور اس کے پہلے پر نٹر شیخ نور احمد صاحب بنے جوفن طباعت میں بہترین ماہر مانے جاتے تھے اور جنہیں کچھ عرصہ قبل پادری رجب علی صاحب نے مراد آباد سے خاص طور پر بلا کر ان کے سپر داپنے مطبع اہتمام کر رکھا تھا۔۔۔۔حصہ اوّل کی اشاعت کے بعد چونکہ شیخ نور احمد صاحب نے مطبع سفیر ہند چھوڑ کر مطبع ریاض ہند کے نام سے قریب ہی اپنا ذاتی مطبع قائم کر لیا تھا۔اس لئے پادری رجب علی صاحب نے کتاب کو گزشتہ معیار پر قائم رکھنے کیلئے شیخ نور احمد صاحب ہی کو کچھ اجرت پر اس کی طباعت کا کام دے دیا اور اس طرح اگلے دو حصہ (حصے دوم اور حصہ سوم ) عملاً تو ریاض ہند میں مطبع ہوئے مگر ان پر نام سفیر ہند کا درج کیا گیا۔اسی رنگ میں کتاب کا حصہ سوم ریاض ہند میں چھپ رہا تھا کہ پادری صاحب نے حضرت صاحب سے روپے کا بار بار مطالبہ کرنا شروع کر د یا حالانکہ حضرت صاحب تو انہیں پیشگی روپیہ دے دیتے۔مگر وہ کام کو معرض تاخیر میں ڈالتے جاتے تھے۔جب ان کے تقاضوں نے سخت تنگ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کچھ رقم لیکر 246