برگِ سبز — Page 234
برگ سبز نظر انداز کر کے نعمتوں کے شکریے دوسروں کی طرف منسوب کر دئے جائیں۔پھر اس تخلیق کا اعادہ ماں باپ کے ذریعے ہوتا ہے اور پھر ماں باپ کے ساتھ آپ کا وجود بنتا ہے۔اگر ایک تخلیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ احسان کا سلوک کریں گے تو جو عظیم خالق ہے لازماً اس کے لئے بھی دل میں امتنان اور احسان کے جذبات زیادہ زور کے ساتھ پیدا ہونگے اور پرورش پائیں گے۔پس یہ دو مضمون جڑے ہوئے ہیں۔جو ماں باپ کے احسان کا خیال نہیں کرتا اور ان سے احسان کا سلوک نہیں کرتا، اس سے یہ توقع کر لینا کہ وہ اللہ کے احسان کا خیال کرے گا یہ بالکل دور کی کوڑی ہے۔پس ماں باپ کا ایک تخلیقی تعلق ہے جسے اس مضمون میں ظاہر فرمایا گیا ہے اور رمضان مبارک میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مقصد خدا تعالیٰ کو پانا قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ کو حاصل کرنا بنیادی مقصد بیان فرمایا ہے۔پس اس تعلق سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سب سے زیادہ قرآن کا عرفان پلائے گئے آپ نے یہ مضمون ہمارے سامنے اکٹھا پیش کیا کہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتے وقت ہر قسم کے محسنوں کا احسان اتارنے کی کوشش کرو۔ماں باپ کا احسان تو تم اتار سکتے ہو ان معنوں میں کہ تم مسلسل ان سے احسان کا سلوک کرتے رہو، عمر بھر کرتے رہو۔اگر احسان نہ بھی اترے تو کم سے کم تم ظالم اور بے حیا نہیں کہلاؤ گے۔تمہارے اندر کچھ نہ کچھ یہ طمانیت پیدا ہوگی کہ ہم نے اتنے بڑے محسن اور محسنہ کی کچھ خدمت کر کے تو اپنی طرف سے کوشش کر لی ہے کہ جس حد تک ممکن تھا ہم احسان کا بدلہ اتاریں۔اللہ تعالیٰ کے احسان کا بدلہ نہیں اتارا جا سکتا 234