برگِ سبز

by Other Authors

Page 282 of 303

برگِ سبز — Page 282

برگ سبز منانے کے حقدار تھے اور ان کی عید حقیقی عید تھی۔۔۔۔یہ چیز ان لوگوں کی عید کا موجب تھی۔جس قوم میں ایسے افراد پائے جاتے ہوں جن کو خدامل گیا ہو، جس قوم میں ایسے افراد پائے جاتے ہوں جنہوں نے نہ صرف انفرادی اور روحانی ترقیات حاصل کی ہوں بلکہ قومی ترقیات بھی حاصل کی ہوں اور جس طرف وہ منہ کرتے ہوں کامیابیاں اور فتوحات ان کے قدم چومتی ہوں۔جس قوم میں ایسے بلند اخلاق پائے جاتے ہوں کہ ان کے زمانہ میں کسی کو اپنا حق مارے جانے کا خیال بھی پیدا نہ ہو۔وہ قوم مستحق ہے حقیقی عید منانے کی۔وہ قوم مستحق ہے حقیقی خوشیاں منانے کی۔کیا دنیا میں اب بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ہوگا۔محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم اس لئے عید مناتے تھے کہ آپ کا محبوب یعنی خدا تعالیٰ آپ کو مل گیا۔اور مسلمان اس لئے عید مناتے تھے کہ ان کے آقا کی جائیداد انہیں مل گئی اور اس کی حکومت دنیا میں قائم ہوگئی۔لیکن سوال یہ ہے کہ آج ایک مسلمان کیوں عید مناتا ہے؟ کیا وہ اس لئے عید مناتا ہے کہ اس کے باپ دادا کی جائیداد ایک ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔کیا وہ اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کی اپنی روحانی جائیدا دایک ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔کیا وہ اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ عدل وانصاف اس میں باقی نہیں رہا۔آخر وہ کونسی چیز ہے جس پر خوش ہوکر وہ عید مناتا ہے۔کیا وہ نئے کپڑے بدلنے یا طرح طرح کے کھانے کھانے پر خوش ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عید پہلے زمانہ میں انعام تھی۔لیکن اب تازیانہ 282