برگِ سبز

by Other Authors

Page 266 of 303

برگِ سبز — Page 266

برگ سبز وجود کو قائم رکھنے کیلئے اور پاکستان کے قیام کی مخالفت اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اسلامی مقاصد و فوائد کے خلاف کارروائیوں کو چھپانے کیلئے جماعت احمدیہ کی وسیع پیمانے پر مخالفت شروع کی تو عوامی سطح پر ہم آہنگی کی مثالی فضا موجود تھی۔پنجاب کے دیہات میں سینکڑوں ایسی مساجد تھیں جن میں احمدی اور دوسرے مسلمان باری باری نماز ادا کرتے تھے اور یہ امران کے اختلاف و افتراق یاد ثمنی و عناد کی بجائے باہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ کا باعث بنتا تھا۔حکومت پاکستان نے جب احمدی مخالف مہم کے دباؤ میں آکر بدنام زمانہ آرڈینینس پاس کیا تو قانون کی پابندی کرتے ہوئے جب ہماری مساجد سے اذان کی آوازیں آنی بند ہو گئیں تو بیبیوں جگہ معز ز غیر از جماعت لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ بے شک اذانیں دیتے رہیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔مقامی ہم آہنگی کی یہ فضا آج بھی جبکہ جھوٹے مخالفانہ پراپیگینڈا کی وجہ سے فضا بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہے، قائم ہے۔پنجاب میں کوئی بھی ایسا خاندان نہیں ہو گا جنکے بعض افراد احمدیت قبول نہ کر چکے ہوں۔ایسے خاندانوں میں باہم تعلقات، ایک دوسرے کی غمی و خوشی میں شرکت برابر جاری رہتی تھی۔ڈاکٹر علامہ اقبال جنہیں شاعر مشرق ، حکیم الامت اور تصور پاکستان کا خالق وغیرہ کے بڑے بڑے القاب و آداب سے یاد کیا جاتا ہے جب اپنی دوسری شادی کے سلسلہ میں کسی امر پر مترڈ دہوئے اور انہیں کسی عالم دین سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئی تو باوجود اس کے کہ وہ پنجاب کے علمی مرکز لاہور میں رہتے تھے یہاں بڑے بڑے علماء پائے جاتے تھے انہوں نے علامہ نور الدین حضرت خلیفہ امسیح الاول کی خدمت میں قادیان آدمی بھجوایا اور صحیح اسلامی فتویٰ حاصل کیا۔علامہ زندگی بھر اپنے بڑے بھائی شیخ عطا محمد صاحب کے نیاز مند رہے جو احمدی تھے۔اپنے بیٹے کو قادیان تعلیم کیلئے بھجوایا اور جب اپنے چھوٹے بچوں کی 266