برگِ سبز — Page 247
برگ سبز قادیان سے امرتسر ہال بازار پہنچے جہاں چھاپہ خانہ دریافت کیا تو بتانے والے نے مطبع ریاض ہند کا پتہ بتادیا۔چنانچہ حضرت صاحب اس مطبع میں داخل ہوئے یہاں براہین احمدیہ کا تیسرا حصہ چھپ رہا تھا۔حضرت صاحب نے سمجھا کہ رجب علی کا یہی پر لیس ہوگا۔ملازموں سے آپ نے فرمایا کہ پادری رجب علی صاحب کو بلاؤ۔شیخ نور احمد صاحب ( مہتم مطبع ) کا گھر قریب ہی تھا۔جب انہیں اطلاع ہوئی تو وہ جلد آ گئے اور السلام علیکم کہ کر مصافحہ کیا۔حضرت صاحب رجب علی کو تو جانتے تھے۔لیکن ان سے تعارف نہیں تھا۔ان کو دیکھ کر متعجب سے ہوئے اور فرمایا یہ پریس رجب علی کا ہے۔انہوں نے ادب سے عرض کیا کہ آپ ہی کا ہے۔پھر فرمایا کہ رجب علی صاحب کا پر یس کہاں ہے اور یہ ہماری کتاب جو چھپ رہی ہے اس مطبع میں کیسے آئی۔انہوں نے اصل واقعہ عرض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری کتاب میں نے اپنے مطبع میں چھاپی ہے۔صرف پہلا حصہ پادری صاحب کے پریس میں چھپا ہے اور وہ بھی میں نے ہی چھاپا ہے۔اب ان کا پریس بند ہے اور وہ فیروز الدین کی مسجد کے پیچھے رہتے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ رجب علی صاحب ہمیں تنگ کرتے ہیں پیشگی روپیہ لے لیتے ہیں اور وقت پر کام نہیں دیتے۔اب ہم ان کو روپیہ دینے آئے ہیں اور کتاب ابھی چھپی نہیں۔اگر پہلے سے ہمیں معلوم ہوتا تو آپ ہی سے چھپواتے۔ہمیں اس وقت بڑی خوشی ہوئی کہ ایک مسلمان کے مطبع میں کتاب چھپ رہی ہے۔اور ہمارا یہ منشا ہے کہ جلد چہارم آپ ہی چھا ہیں اور چھپنے کے بعد جب کتاب مکمل ہو جائے تو ایک ماہ کے بعد بتدریج آپ کو روپیہ دیں۔کیا آپ یہ انتظام کر سکتے ہیں؟ شیخ نور احمد صاحب نے عرض کیا مجھے منظور ہے۔آپ ایک ماہ کے بعد روپیہ بتدریج عنایت فرمانا شروع کر دیں۔247