برگِ سبز

by Other Authors

Page 224 of 303

برگِ سبز — Page 224

برگ سبز پس میں یقین رکھتا ہوں ، ایک ذرہ بھی مجھے اس میں شک نہیں کہ اس جلسے پر میری اور دُور دُور سے قدوسیوں کی آمد اس الہام کی صداقت کی گواہ بن گئی۔کیونکہ جو وعدہ حضرت مسیح موعود سے کیا گیا تھا وہ آج حضرت اقدس مسیح موعود کے اس انتہائی عاجز اور ادنی غلام کے حق میں پورا ہوا ہے۔اور آپ سبھی خوش نصیب اس وعدے کو پورا کرنے میں مددگار اور شریک اور محد اور انصار بن کر یہاں پہنچے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے۔اور خدا کا ہم کیسے شکریہ ادا کریں جس نے یہ سعادت بغیر کسی ظاہری حق کے ہمیں عطا فرمائی۔کوئی مخفی حق اس کے علم میں ہے تو وہی جانتا ہے۔میں تو جب اپنے حال پر نگاہ کرتا ہوں تو ہر گز اپنے آپ کو ان فضلوں کا مستحق نہیں پاتا اور خدا کی قسم اس میں کوئی جھوٹے عجز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں جانتا ہوں کہ میں کون ہوں۔مجھے اپنی حیثیت کا علم ہے۔ان فضلوں کو دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ اے خدا! میں کیا کروں تیرے لئے کس طرح ان کے شکر کا اظہار کروں۔اظہار بھی میرے بس میں نہیں۔شکر ادا کر نا تو بہت دُور کی بات ہے۔دیکھیں اللہ تعالیٰ نے یہی وعدہ فرمایا تھا اب تو امن اور برکت کے ساتھ اپنے گاؤں میں جائے گا اور میں تجھے پھر بھی یہاں لاؤں گا۔جس کا مطلب ہے کہ پہلی واپسی عارضی ہوئی تھی اور امن کے ماحول میں ہونی تھی۔بعض احمدی باہر کے ملکوں میں پتہ نہیں کیسے ان خوابوں میں بسے رہے کہ گویا جس طرح فوج کشی ہوتی ہے اس طرح بڑے زور سے احمدیت کی فوج نَعُوذُ بِالله مِنْ ذالك قادیان پر حملہ آور ہوگی اور اس طرح فتح حاصل کرے گی اور وہ پرانی 224