برگِ سبز — Page 167
برگ سبز نہیں کرتے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے اپنے آپ کو ہر طرح کی مشکلات کی آگ میں سے گزر کر۔اپنی بیویوں کو بیوہ اور اولاد کو یتیم بنایا۔۔تا کہ ہم اسلام کی نعمت و برکت سے فائدہ اٹھا ئیں اور دنیوی نقصانات اور خسارہ کے اندیشوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے صحابہ کرام کے مبارک طریق پر چلنے کی کوشش کریں۔كلمه التقوی ، یعنی ادار یہ بھی قربانی کی اہمیت و عظمت کے بارہ میں ہے اس اداریہ کے آخر میں محترم مدیر صاحب لکھتے ہیں : حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد خلیفۃ السیح الثانی نے قربانیوں کے سلسلہ میں ایک اہم نکتہ بیان فرمایا ہے کہ بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ قربانی کی یاد کا عظیم مظاہرہ حضرت ابراہیم کی اس قربانی کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے جو آپ نے اپنی ایک رؤیا کے مطابق ذبح کی صورت میں پیش فرمائی حالانکہ اگر یہی بات ہوتی تو اس قربانی کی یاد ملک شام میں منائی جاتی حالانکہ اس عظیم قربانی کی یاد مکہ میں منائی جاتی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ اس غیر معمولی قربانی کی یاد ہے جو آپ نے اپنی بیوی حضرت حاجرہ اور بیٹے حضرت اسماعیل کو وادی غیر ذی زرع میں (جہاں زندگی کے قیام کے ظاہری ذرائع مفقود و معدوم تھے ) قربانی کی صورت میں پیش کر دیا تھا اور اس میں یہ سبق پنہاں تھا کہ خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے والے کبھی ضائع نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانی کو قبول فرماتے ہوئے انہیں دائمی عزت وغلبہ سے سرفراز فرماتا ہے۔ہمیں بطور خاص یہ اہتمام کرنا چاہئے کہ ہم ، ہر وہ چیز جو ہمارے قبضہ و تصرف میں ہے، اسے خدا تعالیٰ کے قرب اور خوشنودی کے حصول کے لئے قربان کرنے 167