برگِ سبز — Page 153
برگ سبز نے برعظیم کے مسلمانوں کو اسلام کے قریب آتے ہوئے دیکھا ہے یا دور جاتے ہوئے پایا ہے۔جواب ملا کہ مسلمانوں میں دو طبقے پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں ایک مذہب سے قریب دوسرا اس سے کچھ دور۔ان دونوں طبقوں کا درمیانی فاصلہ اس چالیس سال میں بہت بڑھ گیا ہے۔یہی نہیں بلکہ جو لوگ مذہب سے بے گانہ ہیں ان کی تعدا د اور قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔میں نے دوسراسوال پوچھا۔برصغیر کی گزشتہ چالیس سال کی تاریخ میں زندگی کے کتنے ہی شعبوں میں ایسے نامور مسلمان ایک ہی وقت میں جمع ہو گئے جس کی مثال نہیں ملتی۔اگر ان سب کی موجودگی میں اسلام سے بے گانہ ہو جانے والوں کی تعداد اور قوت میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے مستقبل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس کے مسائل آپ کے عہد سے زیادہ الجھے ہوئے اور رہنما آپ کے معیار سے کم مایہ ہوں گے۔کیا یہ بات قابل افسوس نہیں کہ جولی سرمایہ آپ کو اسلاف سے ملا تھا۔اس سے آپ کا ترکہ کم تر ہوگا۔شاہ جی نے فرمایا کہ ہمیں اپنے مقصد میں اس لئے کامیابی نہ ہوسکی کہ دوسو برس کے عرصہ میں فرنگی کی تعلیم اور تہذیب نے اپنا پورا تسلط جما لیا تھا۔آسودہ حال لوگ علی گڑھ کی طرف چلے گئے اور ناکارہ آدمی دینی مدارس کے حصے میں آئے۔جنگ آزادی کی ہما ہمی میں سیاست دین پر اور منافقت دنیا پر غالب آئی۔ساری توجہ اور توانائی نئی تعلیم اور نئی سیاست کی نذر ہو گئی جو لوگ باقی رہے ان میں سے کچھ ہند و تمدن کے زیر اثر رہ کر گمراہ ہو گئے۔صرف بچے کھچے اور لٹے پٹے لوگ ہی دین کے قافلہ میں شامل ہوئے۔ہمارا سرمایہ خوب تھا مگر نسل ناخوب تھی۔نتیجہ ظاہر ہے۔آبائی ورثہ بھی 153