برگِ سبز — Page 145
برگ سبز ہیں۔خاکسار ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو مرکز سے آئے ہوئے اور چند ایک مقامی بزرگان سلسلہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی اہم مشورہ ہو رہا تھا۔خاکسارا جازت لے کر ایک طرف بیٹھ گیا تو امیر صاحب نے آمد کا مقصد پوچھا۔خاکسار کو دوسرے بزرگوں کے سامنے سوال کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوئی تو امیر صاحب نے فرمایا کہ یہ سب مخلص احمدی ہیں تمہارا راز افشاء نہیں کریں گے۔میں نے مدعا بیان کیا تو کہنے لگے بس اتنی سی بات تھی۔کہنے لگے لکھ دو۔میں نے رسید لکھ کر دی تو انہوں نے واپس کر دی اور کہا کہ مجھے رسید نہیں چاہئے۔تمہاری تحریر چاہئے کہ امیر جماعت احمد یہ لاہور نے ایک دینی خدمت میرے سپرد کی تھی جو میں اپنی نالائقی کی وجہ سے نہیں کر سکا اور میری اتنی مدد کی جائے۔میں نے کہا کہ یہ تو میں نہیں لکھوں گا۔انہوں نے فرمایا کہ اتنے غیرتمند ہو تو پھر میرے پاس کیوں آئے ہو، جاؤ جا کر کام مکمل کرو۔اس واقعہ کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ پھر سلسلہ کا کام کرتے ہوئے مجھے کوئی ایسی دشواری نہیں ہوئی۔جو خدمت میرے سپر د ہوئی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام مکمل کر دیا۔محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ نوجوانوں سے کام لینا خوب جانتے تھے۔ان کی نفسیات کو سمجھتے تھے۔نوجوانوں سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔وہ ناراض ہوتے تھے تو بس اتنا کہتے : "There are very few people wise in this world, mostly they are otherwise" یہ فقرہ غلطی کرنے والے نو جوانوں کے لئے کافی تازیانہ ہوتا تھا۔“ (صفحہ 49-48) 145