برگِ سبز — Page 107
برگ سبز تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ما مورز مانه حکم و عدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر نہایت بلیغ اور پر معرفت انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں: کروڑوں مسلمان دنیا میں موجود ہیں اور مسجدیں بھی بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔مگر کوئی برکت اور ظہور اُن مسجدوں کے بھرے ہوئے ہونے سے نظر نہیں آتا۔اس لئے یہ سب کچھ جو کیا جاتا ہے محض رسوم اور عادات کے طور پر کیا جاتا ہے۔وہ سچا اخلاص اور وفا جو ایمان کے حقیقی لوازم ہیں اُن کے ساتھ پائے نہیں جاتے۔سب عمل ریا کاری اور نفاق کے پردوں کے اندر مخفی ہو گئے ہیں۔جوں جوں انسان اُن کے حالات سے واقف ہوتا جاتا ہے اندر سے گند اور خبث نکلتا آتا ہے۔مسجد سے نکل کر گھر کی تفتیش کرو تو یہ نگ اسلام نظر آئیں گے۔مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک کوٹھا ہزار من گندم سے بھرا ہوا خالی ہو گیا۔اگر چو ہے اُس کو نہیں کھا گئے تو وہ کہاں گیا۔پس اسی طرح پر پچاس برس کی نمازوں کی جب برکت نہیں ہوئی ، اگر ریا اور نفاق نے ان کو باطل اور حبط نہیں کیا تو وہ کہاں گئیں۔خدا کے نیک بندوں کے آثار اُن میں پائے نہیں جاتے۔ایک طبیب جب کسی مریض کا علاج کرتا ہے اگر وہ نسخہ اس کے لئے مفید اور کارگر نہ ہو تو چند روز کے تجربہ کے بعد اُس کو بدل دیتا ہے اور پھر تشخیص کرتا ہے۔لیکن ان مریضوں پر تو وہ نسخہ استعمال کیا گیا ہے جو ہمیشہ مفید اور زوداثر ثابت ہوا ہے۔تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نسخہ کے استعمال میں غلطی اور بد پرہیزی کی ہے۔یہ تو ہم کہ نہیں سکتے کہ ارکان اسلام میں غلطی تھی۔اور نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ 107