برگِ سبز — Page 267
برگ سبز کفالت کیلئے ایک ٹرسٹ قائم کیا تو اس میں اپنے تمام رشتہ داروں کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے اس بھتیجے کو شامل کیا جو احمدی تھے۔مولانا عبدالمجید سالک ،مولانا غلام رسول مہر ، میاں محمد شفیع (مش) مشہور علمی و ادبی شخصیات باوجود جماعت میں شامل نہ ہونے کے احمدیوں کے ساتھ بہت قریبی دوستانہ تعلق رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے معززین میں سے کسی نے بھی احمدیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کی مہم میں کبھی حصہ نہ لیا۔قارئین کیلئے یہ امر باعث حیرت ہوگا کہ ہمارے ارباب حل وعقد اور امن قائم رکھنے والی ایجنسیاں اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مقامی ہم آہنگی کو ختم کرنے اور لاقانونیت و دہشت گردی کی فضا پیدا کرنے والے کون لوگ ہیں۔اسی علم کی وجہ سے حکومت جب امن وامان قائم رکھنے کا ارادہ کرتی ہے تو وہ بعض مشہور علماء کی نقل وحرکت پر پابندی لگا دیتی ہے۔محرم کی آمد سے قبل بالعموم ایسی فہرستیں اخبارات میں شائع ہو جاتی ہیں اور اگر اس امر کی نگرانی کی جائے تو قیام امن کا مقصد بھی حاصل ہو جاتا ہے۔اب بھی اگر حکومت واقعی اس مقصد میں مخلص ہے اور مذمت کے بیانات محض دفع الوقتی اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے نہیں ہیں تو یہی طریق کارآمد اور مفید ہو سکتا ہے۔(الفضل انٹرنیشنل 10 جون 2005ء) 00 267