برگِ سبز

by Other Authors

Page 265 of 303

برگِ سبز — Page 265

برگ سبز کی مقامی فضا موجود ہے۔محلوں کے محلے متضاد مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد سے آباد ہیں اور امن آشتی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔کروڑوں پاکستانیوں کا نظریہ اس سنہرے اصول پر استوار ہے کہ اپنا مسلک نہ چھوڑو اور دوسرے کا مسلک نہ چھیڑو۔مگر اس کے باوجود انہیں تقسیم کرنے کیلئے ہمارے اندر کا دشمن اپنی مذموم کوشش میں لگا رہتا ہے۔وہ ایسا سکرپٹ لکھتا ہے کہ اس پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔وہ پہلے پر دہلا مارتا ہے۔کبھی ادھر کبھی اُدھر۔تا کہ شیعہ سنی کے درمیان حد فاصل کھینچی جا سکے۔دونوں کو ایک دوسرے کا بازو بننے سے روکنا اور بازو کاٹنے والا ثابت کیا جائے۔ہمیں تقسیم کرنے کی یہ پرانی مہم درمیان میں دم تو ڑ گئی تھی لیکن اب جبکہ ہمیں متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے ایک مرتبہ پھر یہ کوشش کی جارہی ہے۔باہر کا دشمن اندر کے دشمن کا لبادہ اوڑھ کر اس فتنے کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے جسے قوم اجتماعی طور پر مستر د کر چکی ہے۔باہر کے دشمن تو ہمیں بالکل سامنے نظر آرہے ہیں مگر اندر کے دشمن ہمارے ارد گرد ہونے کے باوجود ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ، ضرورت انہیں تلاش کرنے اور ان پر نظر رکھنے کی ہے، اندر کا دشمن ہمیں ہوش و خرد سے بیگانہ کرنا چاہتا ہے تا کہ اپنے مکر وہ مقاصد حاصل کر سکے۔ہمیں ہوش میں رہ کر ان جرائم کو ناکام بنانا ہے۔“ (روز نامہ اوصاف۔اسلام آباد کا سانحہ 28 مئی 2005ء) فاضل تبصرہ نگار کا یہ لکھنا کہ عوامی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مقامی فضا موجود ہے“ کچھ ایسا غلط نہیں ہے۔پاکستان کے قیام کی مخالف طاقتوں نے قیامِ پاکستان کے بعد اپنے 265