برگِ سبز — Page 204
برگ سبز یہ جماعتی رد عمل صرف شاعری یا زبانی جمع خرچ نہیں تھا بلکہ قربانی کے ہر میدان میں نئے ریکارڈ قائم ہونے لگے۔حضرت صاحب نے ساڑھے ستائیس ہزار کا مطالبہ کیا تھا جماعت نے اس سے کئی گنا زیادہ پیش کر دیا۔حضرت صاحب نے واقفین زندگی کا مطالبہ کیا تھا جماعت نے اپنے جگر گوشے پیش کر دیئے۔احمدی ماؤں نے اپنے اکلوتے بچے اس اہم مقصد کی خاطر پیش کر دیئے۔بعض مخلصین جن کے جذبات اخبار الفضل میں محفوظ ہو گئے، بطور مثال پیش خدمت ہیں: وو پچھلے سال اور اس سال میں سخت مالی مشکلات میں مبتلا رہا اور ہوں۔پہلے ارادہ کیا تھا کہ اس سال ہیں روپے آپ کی خدمت میں پیش کر کے باقی کی اس شرط پر معافی چاہوں گا کہ اگر بقایا ادا کرسکا تو بہتر ورنہ آپ معافی دیدیں ،مگر حضرت صاحب کا خطبہ پڑھ کر اسی وقت سے میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر مجھے گھر کا تمام سامان فروخت کرنا پڑے تو کر دوں گا مگر آپ کے ارشاد کی تعمیل ضرور کروں گا۔“ ایک اور فدائی نے لکھا: اب جو حضرت صاحب کے پاک کلمات پہنچے تو بدن میں آگ ہی لگ گئی۔روح بے چین ہو گئی۔پیارے آقا ! اس ماہ میں مقروض بھی ہوں تاہم اپنا وعدہ آپ کے قدموں میں ڈال رہا ہوں۔اگر چہ یہ حقیر رقم ہے مگر قبولیت پر ممکن ہے میری عاقبت بخیر ہو۔“ ایک اور پیشکش اس قابل رشک طریق پر پیش ہوئی: خاکسار نے حضرت صاحب سے مہلت کی درخواست کی جو منظور ہوچکی 204