برگِ سبز — Page 161
برگ سبز اس مفید و موثر کتاب کے متعلق آپ تحریر فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے میرے دل میں یہ نیت آئی کہ کچھ ایسی باتیں لکھی جائیں جو خلق اللہ کو نفع دیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو میرے لئے عمل وثواب جاریہ بنادے۔اس کا نام انعامات خداوند کریم ہو۔عبارت عام فہم اور آسان اردو میں اور پیرایہ ایسا ہوجیسے کوئی کسی سے زبانی با تیں کرتا ہے۔۔۔مسجد مبارک ( قادیان ) میں دورکعت پڑھ کر اس کی ابتدائی چھ باتیں لکھیں۔پھر جب اور جہاں موقع ملا لکھا اور کم و بیش بھی کرتا رہا۔اللہ تعالیٰ میری خطاؤں اور گناہوں کو بخشے میری ستاری فرمائے۔مجھے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔۔۔اور اپنے فضل رحمت اور مغفرت سے قبول فرما کر اس کتاب کو اپنے بندوں کیلئے دنیا عقبی میں نافع بنائے۔۔۔66 کتابی سائز کی 500 سے زائد صفحات کی یہ کتاب انمول و بیش قیمت نصائح اور تجربات پر مشتمل ہے۔حضرت پیر صاحب نے الگ الگ عنوانوں پر چھوٹے چھوٹے نوٹ یا شذرات تحریر کئے ہیں بعض عنوان ایک سے زائد مرتبہ بھی نظر آتے ہیں مگر کتاب میں تکرار محسوس نہیں ہوتی کیونکہ بہت ہی ناصحانہ رنگ میں بہت ہی پیار و محبت سے اس طرح باتیں کی ہیں کہ پڑھنے والا ان سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔مثلاً معاملہ کی صفائی کے عنوان کے تحت حضرت پیر صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”اگر معاملہ تمہارا اچھا ہے اور وعدہ تمہارا سچا ہے تو تم بڑے ساہوکار ہو۔جس سے وعدہ کرو پورا کرو اور جو بات کہو سچی کہو۔جو شخص کسی سے قرض لیتا ہے اور وعدہ پر نہیں دیتا خواہ اس کی شکل کیسی اچھی ہو اس کو آئندہ کوئی قرض نہیں دیتا۔161