براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page vii
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب نے براہین احمدیہ کی مالی اعانت تو کی جس کا ذکر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے۔لیکن علمی اعانت کا الزام سراسر بے سروپا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی اشاعت (1884-1880 ء) سے لے کر آج تک اس خدمت کا سہرا۔۔۔حضرت بانی جماعت احمدیہ کے نام ہے اور رہے گا۔کبھی کسی دوسرے نے یہ دعوی نہیں کیا اور اگر مرزا صاحب کی وفات کے بعد کسی نے یہ نقطہ چینی کی ہے تو اس کی کوئی حقیقت نہیں۔مؤلف کتاب نے اس دیرہ بینہ اعتراض کے جواب میں پہلی دفعہ اتنی شرح وبسط باریک بینی اور تحقیق سے جواب لکھ کر معترضین کو ہمیشہ کے لئے ساکت وصامت کر دیا ہے۔مؤلف موصوف حضرت سلطان القلم کے قلم کاروں میں سے ہیں۔’313 اصحاب صدق وصفا“ کے لئے بھی گرانقدر علمی معاونت کر چکے ہیں اور متعدد تحقیقی مضامین تحریر کر چکے ہیں۔یہ کتاب یقیناً جماعتی لٹریچر میں ایک مفید اضافہ ہوگی۔اللہ تعالیٰ مؤلف کتاب کی تحقیق کو پذیرائی عطا فرمائے اور اہل علم احباب کے لئے اسے مفید نتائج کا حامل بنائے۔اس کتاب کی اشاعت میں معاونت کرنے والے اور کتاب کی بہتری کے لئے مفید مشوروں سے معاونت کرنے والوں کا خاکسار شکریہ ادا کرتا ہے۔قائد اشاعت و نائب قائد اشاعت اور اشاعت کمیٹی انصار اللہ پاکستان کے فاضل ممبران بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ جن کی کوشش اور توجہ سے یہ کتاب احباب جماعت کے فائدہ کے لئے شائع ہو رہی ہے۔فجز اہم اللہ احسن الجزاء۔والسلام خاکسار حافظ مظفر احمد صدر مجلس انصار اللہ پاکستان