براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 200 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 200

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام باب ہشتم: حرف آخر 200 8-1-حرف آخر ان حقائق کی روشنی میں ، راقم الحروف ایک بار پھر مصنف براہین احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے اُن الفاظ کو جو آپ نے اپنی اس کتاب کے مالی معاونین کی بابت اسی کتاب میں رقم فرمائے تھے دوبارہ نقل کرتا ہے یعنی: “جب تک صفحه روزگار میں نفس افادہ اور افاضہ اس کتاب کا باقی رہے گا ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے۔" سوراقم الحروف مولوی چراغ علی صاحب مرحوم کے لیے اُن کی دس روپے کے نوٹ سے کی گئی مالی امداد کے لیے دعائے خیر کرتا ہے۔موصوف کے بارے میں ناچیز کا قطعا کوئی تنقید لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔یہ تو مولوی عبد الحق المعروف بابائے اُردو بانی انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی کا مولوی چراغ علی مرحوم کی کتاب اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام ” میں براہین احمدیہ سے متعلق بہ عجلت اخذ کردہ ایک نتیجہ تھا اس مقصد سے کہ مولوی صاحب (چراغ علی ) کو اس سنگھاسن پر بٹھا دیا جائے جس کے لیے اُن کا حق نہیں بنا تھا۔مولوی عبد الحق مرحوم ہزار بار ایسا کرتے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہ ہوتا لیکن جب مولوی عبد الحق صاحب کی بد نیتی و بد دیانتی، کر دار کشی اور جعل سازی کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے تو قلم کو روک رکھنا بس کی بات ہی نہیں رہ جاتی۔پس اسی وجہ سے یہ تردید از بس ضروری ہو گئی اور زیب قرطاس کی گئی ہے۔اس کے ساتھ انجمن ترقی اُردو پاکستان سے ایک مطالبہ بھی پیش کیا جاتا ہے: 8-2- انجمن ترقی اُردو پاکستان کراچی اور مجلس ترقی ادب لاہور اسی طرح دیگر حضرات سے ایک مطالبہ اس سلسلے میں ایک مثال پیش کرنی چاہتا ہوں۔انجمن ترقی اُردو پاکستان کراچی نے خلیق انجم کی ایک کتاب متنی تنقید سن 2006ء میں شائع کی ہے۔اس کے باب 3 میں خلیق انجم صاحب نے ایک الگ عنوان “سرقہ ” کا لگایا ہے۔موصوف نے اس ضمن میں پبلشر کی غلطی کے ضمن میں لکھتے ہیں جو مولوی عبد الحق صاحب سے ہی متعلق ہے:۔“ وہ کسی کبھی پبلشر کی غلطی سے بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مصنف کی کتاب پر کسی دوسرے مصنف کا نام آجاتا ہے۔ہمارے زمانے میں اس کی مثالیں “ کہانی رانی کیتکی کی ” اور خطوط غالب ہیں۔پہلی کتاب کے بارے میں اکبر علی خان صاحب لکھتے ہیں۔“ یہ انشا کی مشہور کتاب کا دوسر اڈیشن ہے۔جسے مولانا عرشی نے کتاب خانہ رضا رامپور کے دو خطی نسخوں کی مدد سے مرتب کیا تھا۔یہ کتاب انجمن ترقی ار دو ( پاکستان ) کی طرف سے شائع ہوئی ہے اور اس پر غلطی سے مرتب کی جگہ مولوی عبد الحق کا نام چھپ گیا۔میں نے مولانا امتیاز علی خان عرشی سے اس سلسلے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اکبر علی خان کا بیان بالکل درست ہے۔۔اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ مولوی عبد الحق اور مالک رام صاحب کا مر تبہ ایسا تھا کہ ان کا خاموش رہنا اچھا نہیں لگا۔یہ دونوں حضرات کتابیں چھینے کے بعد دوسراٹائیٹل چھپوا کر اصل مرتبین کے نام دے سکتے تھے۔2