براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 183 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 183

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 183 “ہندوستان میں بیٹھ کر مولوی صاحب کو مغربی لٹریچر اور مغربی رسائل پر اتنا عبور کس طرح حاصل ہو گیا۔انہوں نے اپنے دعوے کی تائید میں غالباً کوئی مفید بات نہیں چھوڑی۔" راقم الحروف کے خیال میں مولوی چراغ علی صاحب نے اپنا کوئی موقف بنایا ہی نہیں بلکہ متن میں مغربی مصنفین کے حوالے دے کر یا حاشیے میں حوالے دے کر اُن کے ہی خیالات کو اسلام پر تھوپ دیا ہے۔جس پر اس مضمون میں بھی بحث کی گئی ہے۔علاوہ ازیں "مولوی چراغ علی " مغرب سے شدید متاثر تھے اور اسلام کی تمام تعلیمات کو مغربی تناظر میں مغرب کی منشاء کے مطابق ڈھالنے کا عزم صمیم رکھتے تھے۔" -7-4- مقالہ نگار تاریخ ادبیات پنجاب یونیورسٹی لاہور اور مولوی ابوالحسن ندوی کی آراء ایک مبصر لکھتے ہیں کہ بظاہر یہ کتاب عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کے مقابلے میں ایک کامیاب کوشش معلوم ہوتی ہے لیکن بقول ابو الحسن ندوی اس ضخیم دفتر میں کوئی نادر علمی تحقیقی اور مسیحیت کے ماخذ اور اس کی قدیم کتابوں اور اس کے اسرار و حقائق سے اس طرح واقفیت نہیں نظر آتی جو " اظہار الحق ازالۃ الاوہام " کے مصنف رحمت اللہ کیرانوی یا مولانا محمد قاسم نانوتوی کے ہاں موجود ہے۔بہر حال اس کتاب کی اشاعت نے مرزا صاحب کو دفعتاً قادیان کے گوشتہ گمنامی سے نکال کر شہرت کے منظر عام پر کھڑا کر دیا۔8 موصوف کا کسی دوسرے مصنف سے اخذ کردہ یہ بیان اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ موصوف نے جتنی آگہی براہین احمدیہ ” کے مضامین سے حاصل کی ہے اس کے مطابق براہین احمدیہ ایک کامیاب کوشش ہے جو مرزا صاحب کو گوشہ گمنامی سے نکال کر شہرت کے منظر عام پر لاتی ہے۔مگر اپنی بات پر نہ معلوم انہیں بھر وسہ کیوں نہیں ہے۔اس کو دوسر ارنگ دینے کے لئے سند لاتے ہیں تو ابو الحسن ندوی سے اور موصوف ایسی بات کو اٹھاتے ہیں جس کا براہین احمدیہ کے دائرہ کار سے براہ راست کوئی تعلق نہیں مثلاً مسیحیت کے مآخذ اور اس کے قدیم مآخذ سے واقفیت بلکہ براہین احمدیہ تو قرآن مجید کا کلام الہی اور مکمل کتاب اور بے نظیر ہونا اور آنحضرت صلی للی کم کا اپنے دعویٰ نبوت ورسالت میں صادق ہونا ہے جبکہ ایک بات کتاب سے لا تعلق ہے اس کا مطالبہ بھی اس سے کر کے اُسے پایہ اسناد سے گرا کر رحمت اللہ کیرانوی ایسے مصنف کو مقابلے پر لاتے ہیں۔(مولوی رحمت اللہ کیرانوی مرحوم کے بارے میں ایک الگ مضمون میں اندراج کیا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔موصوف مولوی رحمت اللہ کیرانوی مرحوم حیات مسیح کے قائل تھے اور مسیح و مہدی کی آمد ثانی کے قائل تھے۔ملاحظہ ہو آپ کی کتاب “ اظہار الحق ” وغیرہ جبکہ حضرت مرزا صاحب کو خود دعوی مسیحیت و مهدویت تھا) مولوی ابو الحسن ندوی صاحب تو مسیحیت کے قدیم ماخذ کی بھول بھلیوں میں گم ہیں کیا حضرت مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر بھی کوئی اور مآخذ ہو سکتا ہے۔جن کے بارے میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تحریر کرتے ہیں۔اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے۔گویا ایک ہی جو ہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے۔مولوی ابو الحسن ندوی صاحب کو جو عناد حضرت مرزا صاحب سے ہے اس کا جابجاذ کر کرتے ہیں۔موصوف براہین احمدیہ کے ضمن میں تحریر کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ملک کے دوسرے اہل علم اور اہل نظر حضرات اور مصنفین سے ہی کتاب کے موضوع کے سلسلہ میں خط و کتابت کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے خیالات اور مضامین بھیجیں جن سے اس کتاب کی تصنیف میں مدد لی جائے۔جن لوگوں نے ان کی اس دعوت کو قبول کیا ان میں مولوی چراغ علی صاحب بھی تھے۔جو سرسید کی بزم علمی کے ایک اہم رکن تھے۔مرزا