براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 74 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 74

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 74 آپ فرماتے ہیں: خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں۔افلاطون بن جاویں بیکن کا اوتار دھار میں ارسطو کی نظر اور فکر لاویں اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے الہہ باطلہ۔جب تک اس کتاب کا جواب نہ دیں تب تک بازاروں میں عوام کالانعام کے سامنے (چونکہ یہاں پر چھوڑے گئے الفاظ مولوی عبدالحق صاحب پر صادق نہیں آتے اس لیے انہیں چھوڑا جاتا ہے باقی کی تمام بات کے وہ مصداق ہیں۔اور حضرت اقدس مرزا صاحب کی عبارت میں اضافہ کر کے لکھا جاتا ہے براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی سے مدد لینے کے دروغ بے فروغ کو ) بیان کرنا صفت حیا اور شرم سے دور سمجھیں۔سچ سچ کہو اگر نہ منہ جہاں کو دکھاؤ گے یا نہیں ؟81 پھر بھی بنا تم ނ کچھ جواب حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ دوم میں تحریر " عرض ضروری بحالت مجبوری بھی درج کی ہے جو ہم بھی حضرت مرزا صاحب کی اتباع میں بحالت مجبوری درج کرتے ہیں کیونکہ مولوی عبد الحق صاحب مولوی چراغ علی پر فدا ہوئے جاتے ہیں اور اُنہیں وہ مقام دیتے ہیں جس کے وہ مستحق نہیں، لہذا اب یہ عبارت موصوف اور اُن کے متبعین کے لیے درج ہے۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: ناچار اس اندیشہ سے کہ مبادا کوئی شخص ان کی واہیات باتوں سے دھوکا نہ کھاوے پھر کھول کر بیان کیا جاتا ہے کہ کتاب براہین احمدیہ بغیر اشد ضرورت کے نہیں لکھی گئی۔جس مقصد اور مطلب کے انجام دینے کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے اگر وہ مقصد کسی پہلی کتاب سے حاصل ہو سکتا تو ہم اسی کتاب کو کافی سمجھتے اور اسی کی اشاعت کے لئے بدل و جان مصروف ہو جاتے اور کچھ ضرور نہ تھا جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کر کے پھر آخر کار ایسا کام کرتے جو محض تحصیل حاصل تھا لیکن جہاں تک ہم نے نظر کی ہم کو کوئی کتاب ایسی نہ ملی جو جامع ان تمام دلائل اور براہین کی ہوتی کہ جن کو ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے اور جن کا شائع کرنا بغرض اثبات حقیقت دین اسلام کے اس زمانہ میں نہایت ضروری ہے تو نا چار واجب دیکھ کر ہم نے یہ تالیف کی اگر کسی کو ہمارے اس بیان میں شبہ ہو تو ایسی کتاب کہیں سے نکال کر ہم کو دکھا دے تا ہم بھی جانیں ور نہ بیہودہ بکو اس کرنا اور ناحق بندگان خدا کو ایک چشمہ فیض سے رو کنا بڑا عیب ہے۔" 2۔اور اسی عیب کے مولوی عبد الحق صاحب مر تکب ہوئے ہیں اور اُن کے ناقلین علامہ اقبال، مولوی ابو الحسن ندوی، ڈاکٹر سید عبد اللہ ، قاضی جاوید و غیر ھم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔حوالہ جات وو 82 1 - مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔۔“از مولوی عبد الحق صفحہ ۲ حاشیہ 2 - ایضاً صفحہ 14 4-1