براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 47 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 47

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 47 مولوی چراغ علی صاحب اول تو اس میں پادری میلکم میکال کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔انہیں اپنی تحریروں میں پادریوں کے اعتراضوں سے بچنے کی بڑی فکر ہوتی ہے۔جیسے کہ موصوف ایک جگہ مولوی محمد حسین بٹالوی صااحب ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کے ایک مضمون پر جرح کرتے ہوئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں:۔گو وہ مخالفین کے اعتراضوں کا جواب دینا چاہتے ہیں مگر طر زوانداز سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ اعتراض ہی کو نہیں سمجھتے یا سمجھتے ہیں تو جواب نہیں دے سکتے۔کیونکہ اس مبحث پر انہوں نے تیس صفحے سیاہ کیے اور محض لا حاصل و بے سود ہے۔میرا خیال ہے کہ لاہور ، پشاور، لدھیانہ ، امر تسر کے مشنری صاحبوں اور دیگر پادری صاحبوں نے اس مضمون کو پڑھ کر قہقہ لگایا ہو گا۔یہ بات توخود مولوی چراغ علی صاحب پر صادق آتی ہے جیسا کہ آگے بیان کیا گیا ہے۔مولوی صاحب کو شماتت اعداء کا خیال تو ہے لیکن عقائد اسلامیہ کے دفاع میں عقائد اسلامیہ کی قربانی دے دیتے ہیں لیکن مولوی عبد الحق صاحب کو اُن کا مر تبہ بلند کرنے کی فکر دامنگیر ہے خواہ بہتان تراشی سے کام چل جائے ! 24, دوسرے مولوی چراغ علی صاحب محولہ عبارت صفحہ 43 پر استشہاد لاتے ہیں تو وہ بھی حجۃ اللہ البالغہ مصنفہ شاہ ولی اللہ باب4 سے جو موصوف کی کتاب ریفارمز انڈر مسلم رول” کے انگریزی متن میں زیادہ واضح ہے یعنی حاشیہ میں درج کرتے ہیں:۔Shah Valiullah's Hojjatl Baligha chapter iv of the supplement page 158 (Reforms under Muslim Rules p۔7) راقم الحروف کے پیش نظر حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی حجۃ اللہ البالغہ اردو ترجمہ کی جلد اول دوم متر جمہ مولانا عبد الرحیم سابق پروفیسر عربی و پشتو وناظم مکتبہ علوم شرقیہ اسلامیہ کالج پشاور ہے۔جسے الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور نے اگست 2006ء میں شائع کیا ہے۔مذکورہ کتاب کے تتمہ (supplement) باب 4 chapter میں حضرت شاہ ولی اللہ تحریر فرماتے ہیں:۔چوتھی صدی سے پہلے لوگوں میں یہ خیال اور عقیدہ شائع و ذائع نہیں تھا کہ کسی معین مذہب کی جملہ مسائل میں تقلید کرناضروری ہے۔25", حضرت شاہ ولی اللہ صاحب بات کر رہے ہیں کسی معین مذہب کی جملہ مسائل میں تقلید ” کے بارے میں لیکن مولوی چراغ علی صاحب اس کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں: "6۔Yet there was no book of written law or codes, nor was any mention made of the private opinions of several Imams who had voluntarily prosecuted the cause of jurisprudence as binding on the people or the government in general۔This was the case up to the end of