براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 46 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 46

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 46 مولوی چراغ علی صاحب کی کاوش سے فائدہ عیسائی مذہب کو پہنچ رہا ہو اور پھر بھی ان کی تحریرات کو حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر رکھا جائے تو سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے جس میں مولوی عبدالحق صاحب کے ذہنی جھکاؤ کا بھی اثر ہے جو مولوی چراغ علی کو آئیڈیل تسلیم کئے ہوئے ہیں۔خواہ فائدہ عیسائی مذہب کو ہی پہنچے۔حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے بارے میں کتاب “ حیات احمد ” کے مصنف جناب یعقوب علی عرفانی صاحب لکھتے ہیں:۔“ اس عہد کے بڑے بڑے مصنفین کی تصنیفات کو جو انہوں نے تائید اسلام کے لئے معترضین اسلام کے رد میں لکھیں دیکھا تو معلوم ہو این زمین را آسمانی دیگر است گیا مولوی چراغ علی نے جو کتابیں لکھی ہیں۔ان کے مطالعہ سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے اسلوب بیان اور طریق استدلال کو بھی حضرت کے اسلوب اور طریق استدلال سے کوئی نسبت نہیں۔میں اس وقت کوئی موازنہ قائم کرنا نہیں چاہتا اور نہ اس کتاب کا یہ منشا ہے۔۔۔۔21 " بہر کیف ایک عمومی موازنہ باب پنجم میں اور ایک خصوصی تقابلی مطالعہ باب ششم میں پیش کیا جاتا ہے۔جسے “حیات احمد ” کے فاضل مصنف نے بوجوہ بیان کر دہ چھوڑ دیا ہے ، اس خدمت کو ناچیز احقر العباد ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وباللہ التوفیق۔3-4-مولوی چراغ علی صاحب کا خلاف منشاء مصنف حجۃ اللہ بالغہ حضرت شاہ ولی اللہ مجد د دہلوی کا حوالہ ایک موقعہ پر فقہ کی تیسری اور چوتھی صدی میں بہ زعم خود غیر مطمئن ”حالت کے بارے میں مولوی چراغ علی صاحب تحریر کرتے ہیں: کوئی تحریری مجموعہ قانون باضابطہ نہ تھا۔اور نہ اون امامون کی ذاتی رائے کی نسبت کچھ ذکر تھا، جو اپنی خوشی سے مسائل فقہ کی تحقیق کرتے تھے کہ آیا اون کی رائیں عام طور پر گورنمنٹ یا افراد پر ماننا فرض ہیں یا نہیں۔دوسری صدی کے آخر تک یہی حالت رہی۔تیسری اور چوتھی صدی ہجری بھی یوں ہی گزر گئی، اور اس وقت تک فقہ کے متعلق کوئی ضابطہ یا قانون جاری نہ ہوا۔22 اس کے متعلق فٹ نوٹ میں درج کیا ہے حجة اللہ البالغہ ” مصنفہ شاہ ولی اللہ باب 4 صفحہ 158 مطبوعہ بریلی اس کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا تحریر سے ظاہر ہے کہ ریورنڈ مسٹر میکال کا یہ کہنا محض غلط ہے کہ “دیوانی، مذہبی قوانین میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔مسلمانوں کا فقہ مسلمانون کی سوسائٹی کا ایک غیر تحریری قانون ہے۔جو بہت آخری زمانے میں مرتب کیا گیا۔اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل ممکن نہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہل عرب کے سوائے اون پر اس کی پیروی لازم ہے۔کیونکہ وہ اون ہی کے (عربوں کے رسم و رواج روایات پر حاوی اور مبنی ہے۔اسلامی فقہ کو اسلام کے ملہم قانون (احکام قرآن ) سے مخلوط نہیں کرنا چاہئے۔اسلامی فقہ ایک غیر تحریری قانون ہے، جو قرآن کی چند آیات اور عرب کے رسم و رواج سے جمع کیا گیا ہے ، اور اوس کی تائید متضاد احادیث سے کی گئی ہے۔اس کی بنیاد اجماع یا متحد الرائے لوگوں کی رضامندی پر رکھی گئی ہے۔ابتدائی قوانین کی اصلیت کا سراغ لگانا ناممکن ہے۔کیونکہ وہ خاص کر چند مفروضہ اور مسلمہ اجتہادات کے دلائل پر مبنی ہیں، اور اس سے یہ کہنا واقعیت کے خلاف ہے کہ ان فیصلوں اور قواعد میں مطلق تغیر و تبدل کی گنجائش نہیں۔"23