براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 13 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 13

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام باب دوم: مولوی عبد الحق صاحب المعروف بابائے اردو تعارف، تبصرہ و تنقید 2-1- مولوی عبد الحق کے سوانحی کوائف 13 میرٹھ ضلع (صوبہ اتر پردیش کے ایک قصبہ ہاپوڑ کے محلہ “ قانون گویان ”میں پتھر والے کنوئیں کے سامنے ایک بڑی عمارت جو بیسویں صدی کے دوسرے دہاکے میں مٹی گارے کے ایک کچے مکان کو توڑ کر از سر نو تعمیر کی گئی تھی اُس میں ایک صاحب شیخ علی حسین مقیم تھے۔آپ کے آباؤ اجداد ہندوؤں کی کا سکستھ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔شاہجہان کے عہد میں اسلام قبول کیا اور عہد مغلیہ میں محکمہ مال کی قانون گوئی کی خدمات پر مامور ہوئے۔20 اگست 1870ء کو شیخ صاحب کے گھر ایک بچہ ہاپوڑ سے ملحق گاؤں سر اوہ میں پید اہوا۔جس کا نام خاندانی ناموں حسن ” حسین " کی بجائے " حق کی اضافت کے ساتھ موصوف کے پیرومرشد کے فرمان کے مطابق رکھا گیا اور یہی عبد الحق ہیں جو بعد میں بوجہ رواج زمانہ بی۔اے کرنے پر مولوی عبد الحق کہلائے۔اپنی علمی خدمات کے پیش نظر آپ کو الہ آباد یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں دیں۔اور سب سے پائیدار اعزاز بابائے اردو ”جو قوم نے انہیں دیا۔1 لفظ مولوی ” کی نسبت سے یہاں جوش ملیح آبادی کے مولوی عبدالحق صاحب کے بارے میں انٹرویو میں سے بطور ریکارڈ یہ الفاظ دہرائے جاتے ہیں : مولوی صاحب (مولوی عبد الحق) پہلے تو یہ سمجھئے کہ وہ مولوی ہر گز نہ تھے بلکہ مذہب سے اکثر بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔مولوی در اصل حیدر آباد دکن میں گزیٹڈ آفیسر کے ساتھ بطور احترام استعمال ہو تا تھ۔لہذا “مولویت ” کے مولوی صاحب ہر گز متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔2 2-2 - مولوی عبدالحق صاحب کے مذہبی عقائد بابائے اُردو کے برادر خور دشیخ احمد حسن لکھتے ہیں کہ والدہ صاحبہ خود بے حد عبادت گزار تھیں اور پابند صوم و صلوۃ تھیں۔ظاہری حالت کچھ بھی ہو لیکن بھائی عبد الحق صاحب مرحوم کے دل میں خدا اور مذہب کا بے حد احترام تھا۔23 سرسید احمد خان مولوی عبدالحق سے کس قسم کی توقعات رکھتے تھے۔مولوی صاحب کے قلم سے ملاحظہ ہو :۔ایک دن میں اور خواجہ غلام الثقلین مسجد رویہ کے ایک کمرے کی بنیاد پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔اتنے میں سرسید تام جھام میں آتے ہوئے نظر آئے۔مسجد کی سیڑھیوں کے پاس اتر گئے۔ہمیں جو دیکھا تو پلٹ کر مجھے فرمایا اس کے ساتھ مت پھر ا کرو تم کو شیعہ کرلے گا۔میں نے کہا حضرت اب تو لوگ شیعہ رہے نہ سنی ” میرا اشارہ اس مذہب کی طرف تھا جسے عام لوگ نیچری کہتے اور ان سے منسوب کرتے تھے۔فرمانے لگے “ اسے ایسا بنا لو تو جانوں 4 -2-3- مولوی عبدالحق صاحب کا کوئی مذہب نہ تھا اور مذہب کے بارے میں علم جہل سے بد تر تھا۔یہ شاید نیچریت کا ہی اثر تھا کہ مولوی عبد الحق باوجود مذہبی تحریریں لکھنے کے ، ان کے بارے میں عام خیال ان کی ایسی تحریروں سے مختلف تھا جو ان کی اٹھان میں کار فرما تھا۔چنانچہ مشہور محقق قاضی عبد الودو د پٹنہ سے اپنے ایک خط بنام سید انیس شاہ جیلانی محرره 9 مئی