براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 191 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 191

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام ترجمہ عربی عبارت: اور جو خدمت اُن کے سپرد ہوئی تھی اس کا کوئی حق ادا نہیں کیا۔کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ اسلام کے خلیفے ہیں۔ایسا نہیں بلکہ وہ زمین کی طرف جھک گئے ہیں اور پوری تقویٰ سے انہیں کہاں حصہ ملا ہے۔اس لئے ہر ایک سے جو اُن کی مخالفت کیلئے اُٹھ کھڑا ہو شکست کھاتے ہیں اور باوجو د کثرت لشکروں اور دولت اور شوکت کے بھاگ نکلتے ہیں۔اور یہ سب اثر اسی لعنت کا جو آسمان سے ان پر برستی ہے۔" آگے چل کر ان کے بُرے حال اور بد انجام کی نسبت فرماتے ہیں کہ : ترجمہ عربی عبارت: اور ایسی خیانت اور گمراہی کے ہوتے انہیں کیونکر خدا سے مد د ملے۔اس لئے کہ خدا اپنی دائمی سنت کو تبدیل نہیں کرتا اور اس کی سنت ہے کہ کا فر کو تو مدد دیتا ہے پر فاجر کو ہر گز مدد نہیں دیتا۔یہی وجہ ہے کہ نصرانی بادشاہوں کو مدد مل رہی ہے اور وہ ان کے حدوں اور مملکتوں پر قابض ہورہے ہیں اور ہر ایک ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل انذاری اعلان بھی جو انہی ترکوں کے متعلق ہے قابل غور ولا ئق توجہ ہے: ترجہ عربی عبارت: کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ حرمین شریفین کے خادم اور محافظ ہیں ایسا نہیں بلکہ حرم انہیں بچارہا ہے اس لئے کہ وہ اسلام اور رسولِ خدا کی محبت کے مدعی ہیں اور اگر وہ سچی توبہ نہ کریں تو سز اسر پر کھڑی ہے۔27 191 نوٹ: (ترکوں سے متعلق درج بالا مضمون حضرت مولوی شیر علی صاحب کے محولہ بالا مضمون سے خلاصہ درج کیا گیا ہے ) سو یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) کی ترکی سلطنت کی نسبت تحریرات جن کے بالمقابل مولوی چراغ علی کے خیالات بھی درج کر دیئے گئے ہیں۔ان میں سے اکثر مولوی چراغ علی صاحب کی زندگی میں ہی سامنے آگئے تھے لیکن موصوف نے اُن کے بارے میں کبھی بھی زبان نہ کھولی تھی۔بلکہ خود مصنف و مترجم (مولوی چراغ علی اور مولوی عبد الحق ) کو تسلیم ہے کہ پہلے چار یا پانچ خلفائے راشدین کہلاتے ہیں اور اُن کے بعد کے خلفائے جور ، یا ملک عضوض ” تھے۔28 تو پھر ترکی سلطنت کے خلیفہ “ملک عضوض ” کے دائرے سے باہر کیسے رہ سکتے تھے ؟ آنحضرت صلی الم کی پیشگوئیوں کے مطابق ترکی سلطنت کے “ملک عضوض ” کو مہدی موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت پر ترکی سلطنت کو ضعیف ہونا تھا اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ او پر باتہ التفصيل بیان کیا گیا ہے۔حضرت مرزا غلام صاحب کی ترکی سلطنت کے بارے میں تحریرات خدائی منصوبے کا حصہ ہیں جبکہ مولوی چراغ علی صاحب کے خیالات دنیاوی ہیں جنہیں اس کوچے کی ذرا بھی خبر نہیں ہے پھر اُن سے تقابل کیونکر ممکن ہے ؟ یہ تو فقط مولوی عبد الحق صاحب کی دراز نفسی (استاد نے والی تحریر Pritis i) ہے وبس ! کہاں براہین احمدیہ اور کہاں مولوی چراغ علی صاحب کا کل مبلغ علم این زمین را آسمانی دیگر است مولوی عبد الحق صاحب کے “ اعظم الکلام (مولوی چراغ علی صاحب) کے انتساب ترکی کو ترجمہ میں نظر انداز کرنے کا سبب “ایک نئے دور کا آغاز ” بیان کیا ہے۔اسی لیے موصوف نے “ عمد ا اس مقدمے میں سلطنت ترکی سے بحث نہیں کی ” جبکہ گذشتہ زمانے میں جو سلطان عبد الحمید خان کا زمانہ تھا اُس میں مسیحی دول نے “ جو چاہا دباؤ ڈال کر لکھوالیا اور جس طرح چاہا سلطنت کو نقصان پہنچا کر اپنے لیے رعایتیں حاصل کر لیں لیکن اب اُن کا زور نہیں چل سکتا " اس سے سلطنت ترکی کے بمطابق پیشگوئی ضعیف ہو جانے کا واضح ثبوت بھی ملتا جو مولوی عبدالحق صاحب کے قلم سے ہے۔ملاحظہ ہو