براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 187 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 187

187 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 7-9- حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود اور ترکی حکومت مولوی چراغ علی صاحب نے اپنی کتاب "The Proposed political, legal and social Roforms, in the ottoman Empire and other Mohammadan States" کا اردو ترجمہ “ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام ” پروپوزڈ پولیٹکل، لیگل اینڈ سوشل ریفارمز انڈر مسلم رول ” کیا۔جبکہ مولوی عبد الحق صاحب نے اس کتاب کے مقدمے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ “ ایک ایسے عالم شخص کے قلم سے ایسے مضامین کا نکلنا ایک تعجب خیز امر ہے۔خاص کر دولت عثمانیہ کے خلاف پادری صاحب نے بہت کچھ زہر اگلا ہے اور وہ ہر گز یہ نہیں چاہتے کہ اس کا وجو د یورپ میں باقی رہے۔21 اور اصلاحات کے لفظ سے۔۔۔مولوی صاحب مرحوم کا مقصد صرف اس قدر ہے کہ اسلام ترقی اور اصلاح کا مانع نہیں ہے اور خلیفہ وقت بلحاظ اقتضائے زمانہ پولیٹکل ور سوشل امور میں جدید اصلاحات کے جاری کرنے کا مجاز ہے 22۔وہ کون سے ذرائع ہیں جو ان کی ترقی کا باعث ہو سکتے ہیں اس کتاب کے موضوع اور مولوی صاحب کے مقصد سے خارج ہے۔23 لیکن عنوان میں مجوزہ اصلاحات Proposed Reforms کاوعدہ کیا گیا ہے لیکن مولوی عبد الحق صاحب بجائے اس کا ذکر کرنے کے اُلٹا اسے چراغ علی صاحب کے مقصد سے خارج قرار دیتے ہیں !؟ ” “۔اور مصنف کی رائے میں یہ حق اجتہاد سلطان روم کو بہ حیثیت خلیفہ حاصل ہے۔بہ حیثیت خلیفہ کے سلطان روم کسی مذہب فقہ کے مقلد نہیں ہیں۔خلفائے راشدین ان مذاہب فقہ سے پہلے گزرے ہیں اور بعد کے خلفاء زمانے میں مختلف ممالک اسلامیہ میں مختلف فقہی تغیر و تبدل ہوتے رہے ہیں اور اس لیے سلطان روم بہ حیثیت خلیفہ کے موجودہ ضروریات و حالات کے مطابق ضروری تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔اور غالباً اسی خیال کی بنا پر مصنف نے اپنی کتاب کو سلطان عبد الحمید خان کے نام سے معنون کیا تھا۔" 24 لیکن مولوی عبد الحق صاحب نے یہ انتساب ترجمے میں درج نہیں کیا! یہ ترجمہ انگریزی عبارت کے لحاظ سے سلطنت ترکی اور دیگر مسلمان ریاستوں میں مجوزہ سیاسی، قانونی اور معاشرتی اصلاحات بنتا ہے۔نا معلوم اس ترجمے میں کس بات کی پردہ داری کی گئی ہے اور ترکی سلطنت کے الفاظ کو حذف کر دیا گیا ہے !؟ جبکہ اس کا انتساب انگریزی متن میں جو اصل کتاب ہے اس طرح درج کیا گیا ہے: Dedicated to His Imperial Majesty The Sultan-us-Salatin; and Khaqan-ul- Khawaqin; Malih-ul-Bahrain; and Baki-ul-Barrain; Imam-ul-Muslimeen; and Ameer-ul-Mumineen; Khalifa and Sultan Abu-ul-Hameed Khan; The sultan of Turchey and its dependencies۔لیکن اس انتساب کو بھی اُردو ترجمے کا حصہ نہیں بنایا گیا! یہ بات تو واضح ہے مولوی چراغ علی صاحب سلطنت ترکی سے حد درجہ وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن ترکی سلطنت کے متعلق حضرت مرزا صاحب کے کیا خیالات تھے اُن کے بارے میں بھی چند سطور لکھی جاتی ہیں تا کہ اس پہلو سے بھی حضرت مرزا صاحب اور مولوی چراغ علی صاحب کے خیالات کا مقابلہ ہو سکے۔