براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 182 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 182

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام -7-3 - براہین احمدیہ کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی رائے 182 اہل علم و معرفت کے نزدیک براہین احمدیہ ” کی اور ہی شان ہے انہیں میں سے ایک بہت بڑے صاحب کشف و الہام مصنف (حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) تحریر کرتے ہیں کہ “براہین احمد یہ خاص فیضان الہی کے ماتحت لکھی گئی اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی میں اس کو پڑھنے کے لئے بیٹھا ہوں دس صفحے بھی نہیں پڑھ سکا کیونکہ اس قدر نئی نئی باتیں اور معرفت کے نکتے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں میں مشغول ہو جاتا ہے۔5 یہاں بے جانہ ہو گا کہ مصنف مذکور کا اس قضیے کے بارے میں ایک مختصر مگر بھر پور اور اصولی تبصرہ اندراج پا جائے۔آپ اپنی ایک سلسلہ وار تقریر میں بیان فرماتے ہیں :۔“ آج کل تو “ زمیندار ” اور “احسان وغیرہ مخالف اخبارات یہ بھی لکھتے رہتے ہیں کہ کوئی مولوی چراغ علی صاحب حیدر آبادی تھے وہ آپ کو یہ مضامین لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔جب تک ان کی طرف سے مضامین کا سلسلہ جاری رہا آپ بھی کتاب لکھتے رہے مگر جب انہوں نے مضمون بھیجنے بند کر دیئے تو آپ کی کتاب بھی ختم ہو گئی۔گو یہ سمجھ میں نہیں آتا که مولوی چراغ علی صاحب کو کیا ہو گیا کہ انہیں جو اچھا نکتہ سوجھتا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (اس سے یہاں مراد جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ہیں۔ناقل ) کو لکھ کر بھیج دیتے اور ادھر ادھر کی معمولی باتیں اپنے پاس رکھتے۔آخر مولوی چراغ علی صاحب مصنف ہیں براہین احمدیہ " کے مقابلہ میں ان کی کتابیں رکھ کر دیکھ لیا جائے کہ آیا کوئی بھی ان میں نسبت ہے؟ پھر وجہ کیا ہے کہ دوسرے کو تو ایسا مضمون لکھ کر دے سکتے تھے۔جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور جب اپنے نام پر کوئی مضمون شائع کرنا چاہتے تو اس میں وہ بات ہی پیدا نہ ہوتی۔پس اول تو انہیں ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مضمون لکھ لکھ کر بھیجتے تو عمدہ چیز اپنے پاس رکھتے اور معمولی چیز دوسرے کو دے دیتے۔جیسے ذوق کے متعلق سب جانتے ہیں کہ وہ ظفر کو نظمیں لکھ لکھ کر دیا کرتے تھے۔مگر دیوان ذوق اور دیوانِ ظفر آج کل دونوں پائے جاتے ہیں۔انہیں دیکھ کر صاف نظر آتا ہے کہ ذوق کے کلام میں جو فصاحت اور بلاغت ہے۔وہ ظفر کے کلام میں نہیں۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ظفر کو کوئی چیز دیتے بھی تھے تو اپنی بچی ہوئی دیتے تھے۔اعلیٰ چیز نہیں دیتے تھے۔حالانکہ ظفر بادشاہ تھا۔غرض ہر معمولی عقل والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر مولوی چراغ علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مضامین بھیجا کرتے تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ معرفت کے عمدہ عمدہ نکلتے اپنے پاس رکھتے اور معمولی علم کی باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھ کر بھیجے۔مگر مولوی چراغ علی صاحب کی کتابیں بھی موجود ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں بھی۔انہیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھ لو کوئی بھی ان میں نسبت ہے۔انہوں نے تو اپنی کتابوں میں صرف بائبل کے حوالے جمع کئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے وہ معارف پیش کئے ہیں جو تیرہ سوسال میں کسی مسلمان کو نہیں سو مجھے۔اور ان معارف اور علوم کا سینکڑواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی ان کتابوں میں نہیں۔یا یہاں پر بائبل کی بجائے مستشرقین کے حوالے مراد ہیں۔بقول مجی محمد رضا بسمل (کراچی) خلف الرشید فردوسی دوراں حضرت حکیم عبید اللہ بسمل ایسے لگتا ہے کہ اس دور میں عیساءیوں کے اعتراضات کو بائبل کے حوالے سے ہی کہا جاتا تھا اور پادریوں وغیرہ کو ابھی مستشرقین کہنا شروع نہیں کیا گیا تھا اس لئے حضرت صاحبزادہ صاحب نے بائبل کے حوالے سے لکھا ہے۔جن سے مراد پادریوں کے اعتراضات ہیں۔جو مولوی چراغ علی صاحب کا اوڑھنا بچھونا ہیں جن سے وہ اپنی باتوں کی جا و بے جاسند ڈھونڈتے ہیں اس کی طرف موج کوثر " کے مصنف شیخ محمد اکرام اس کتاب کے نویں ایڈیشن (1970) میں صفحہ 166 مطبوعہ فیروز سنز لاہور میں لکھتے ہیں: