براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 181
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام باب ہفتم : مصنف براہین احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا مقام 181 7-1- مامور من اللہ مصنف براہین احمدیہ کا مقام حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا مرتبہ عام مصنفین کی ذیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔اور نہ آپ کی طرف اس قسم کی استمداد کو درست سمجھا جا سکتا ہے۔کیونکہ آپ براہین احمدیہ میں ہی اپنے رابطہ ربانی کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ جس کے آپ مخاطب ہیں یعنی تجھ کو تیرے وقت کے عالموں پر فضیلت دی ہے۔اس جگہ جانا چاہئے کہ یہ تفضیل طفیلی اور جزوی ہے یعنی جو شخص حضرت خاتم الانبیاء صلی للی نمک کی کامل طور پر متابعت کرتا ہے اس کا مرتبہ خدا کے نزدیک اس کے تمام ہمعصروں سے برتر اور اعلیٰ ہے۔” 1 حضرت مرزا صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ جو ان کے اپنے بارے میں ہے چونکہ اُس اترنے والے کے لئے یہ موقعہ نہ ملا کہ وہ کچھ روشنی زمین والوں سے حاصل کرتا یا کسی کی بیعت یا شاگردی سے فیضیاب ہو تا بلکہ اس نے جو کچھ پایا آسمان کے خدا سے پایا۔اسی وجہ سے اس کے حق میں نبی معصوم کی پیشگوئی میں یہ الفاظ آئے کہ وہ آسمان سے اترے گا یعنی آسمان سے پائے گاز مین سے کچھ نہیں پائے گا۔2 ان ہر دو اقتباسات سے یہ امر عیاں ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا ادعاء اپنے وقت کے جملہ عالموں پر نہ صرف فضیلت کا دعویٰ ہے بلکہ کسی زمینی شخص سے روشنی یا فیض نہ حاصل کرنے کا بھی دعویٰ ہے۔اندریں صورت یہ امر لازم ہے کہ مولوی عبد الحق صاحب نے خطوط کو درج کرنے کے بعد جن نتائج کا استخراج کیا ہے اسے تنقیدی نظر سے دیکھا جائے اور حضرت مرزا صاحب اپنے بارے میں جن امور کو درج کرتے ہیں ان کو جانچا جائے۔بصورت دیگر مولوی عبد الحق صاحب کے مستخرجہ نتائج گو ان کی کیسی ہی بے تعصبی پر کیوں نہ مبنی ہوں وہ تاثر اس قسم کا دے رہے ہیں کہ جیسے مولوی چراغ علی صاحب کوئی ایک بہت بڑے مصنف ہیں اور ان کے ہم پلہ حضرت مر زاصاحب ہیں مگر موصوف جب مدد لیتے ہیں تو مولوی چراغ علی سے لیتے ہیں۔حضرت مرزا صاب کی یہ تحریر ات جب منظر عام پر آئیں اس وقت مخالفت کا ایک طوفان برپا تھا مگر ایسا اعتراض کسی نے نہیں کیا جبکہ وہ لوگ بھی زندہ موجود تھے جن کے نام کے سہارے یہ موجب استخفاف امور منسوب کئے جارہے ہیں۔ان تحریروں کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ معترضین نے جیسے براہین احمدیہ کا سرے سے مطالعہ ہی نہ کیا ہو۔7-2- حضرت مرزا صاحب اسلام کے فتح نصیب جرنیل حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو اسلام کا فتح نصیب جرنیل قرار دیا گیا۔3 مولانا آزاد کے اخبار وکیل ” کے دورِ ادارت کے بارے میں ڈا کٹر ابو سلمان صاحب لکھتے ہیں: وکیل میں رہ کر مولانا کا ذہن پوری طرح کھل چکا تھا اور وقت کے مسائل میں مولانا کے شعور نے پختگی حاصل کر لی تھی۔4 اس کے بالمقابل سرسید اور مولوی چراغ علی صاحب کا اسلام کے دفاع میں انداز معذرت خواہانہ تھا اس صورت حال میں مدد کا افسانہ محض زیب داستان ہی کہا جا سکتا ہے۔