براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 164 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 164

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 164 نے کی ہے اور کہاں تک اپنے مدلل و موجز بیان سے جہل کی تاریکی کو اٹھانے کے لیے علم کی روشنی دکھلائی ہے اور وحدانیت الہی کی خوبیاں اور شرک کی قباحتیں ظاہر کی ہیں۔105 لیکن مولوی چراغ علی صاحب کے سرمایہ تحریر میں اس موضوع سے متعلق ہماری نظر سے کوئی تحریر نہیں گزری جس سے کوئی مقابلہ و موازنہ قائم کیا جا سکے۔البتہ مولوی چراغ علی صاحب کی کتاب تحقیق الجہاد میں ایک نوٹ ہے جو آنریبل راجہ شیو پرشاد کی لیجسلیٹو کونسل میں البرٹ بل سے متعلق 9 مارچ 1883ء کو امیر خسرو کی تاریخ طلائی سے نقل کر دہ ہندوؤں سے متعلق ایک عبارت کے بارے میں ہے۔جس پر مولوی چراغ علی صاحب لکھتے ہیں کہ :۔یہ احکام جو بیان کیے گئے ہیں سراسر اتہام ہیں۔آنحضرت صلی الی یوم کے ایسے احکام نہ تو ذمیوں کی بابت کہیں موجود ہیں اور نہ ہنود کی بابت۔"106 اس دو حرفی تردید سے کیا مقابلہ وموازنہ کا باب کھولا جائے۔؟ لیکن مولوی عبد الحق صاحب کے من مانے نتائج کے پیش نظر براہین احمدیہ میں سے ہنود کے مذہب اور وید کی تردید میں کچھ عبارت نقل کی جاتی ہے جس سے مقصد صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جو کتاب یہ تائید الہی تحریر فرمائی تھی اس میں اس بارے میں کس شان سے دلائل پیش کیے گئے جن کو مولوی چراغ علی صاحب کی تحریرات میں کیا اُس دور کے دیگر مصنفین اور اسی طرح بعد کے مصنفین میں عشر عشیر بھی نہیں ہے۔لیکن مولوی عبد الحق صاحب نے براہین احمدیہ کا مطالعہ کیے بغیر ہی نا واجب حکم لگا دیا جو انہیں زیب نہیں دیتا تھا۔بہر کیف وہ تحریر خلاصہ درج ذیل ہے۔حضرت مرزا صاحب نے یہ شرتیاں رگوید سنتھا اسنک اول سکت سے 115 سکت تک بطور نمونہ منتخب کر کے لکھی ہیں اور ان سے پہلے اور بعد میں ان پر تبصرہ فرما کر آیات قرآنیہ درج کی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ قرآن شریف کی عبارت میں کس قدر لطافت اور اعجاز اور زور بیان پایا جاتا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ قرآن شریف یا وید کس کی عبارت میں طرح طرح کے شکوک اور شبہات پائے جاتے ہیں اور کون سی عبارت فضول اور طول طویل ہے۔حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: آریا سماج والے جو خدا کے الہام اور کلام کو دید پر ختم کئے بیٹھے ہیں وہ بھی عیسائیوں کی طرح قرآن شریف کی بے نظیری سے انکار کر کے اپنے وید کی نسبت فصاحت بلاغت کا دعویٰ کرتے ہیں۔سمجھنا چاہیئے کہ قرآن شریف کی بلاغت ایک پاک اور مقدس بلاغت ہے۔جس کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ حکمت اور راستی کی روشنی کو فصیح کلام میں بیان کر کے تمام حقائق اور دقائق علم دین ایک موجز اور مدلل عبارت میں بھر دیئے جائیں۔اور جہاں تفصیل کی اشد ضرورت ہو۔وہاں تفصیل ہو۔اور جہاں اجمال کافی ہو۔وہاں اجمال ہو اور کوئی صداقت دینی ایسی نہ ہو جس کا مفصلاً یا مجملاً ذکر نہ کیا جائے اور باوصف اس کے ضرورت حقہ کے تقاضا سے ذکر ہو نہ غیر ضروری طور پر اور پھر۔کلام بھی ایسا فصیح اور سلیس اور متین ہو کہ جس سے بہتر بنانا ہر گز کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔اور پھر وہ کلام روحانی برکات بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہو۔یہی قرآن شریف کا دعوی ہے جس کو اس نے آپ ثابت کر دیا ہے۔اور اور جابجا فرما بھی دیا ہے کہ کسی مخلوق کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی نظیر بنا سکے۔