براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 163 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 163

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 163 آسمان پر اٹھائے گئے تو ساتھ ہی ان کے وہ برکت بھی اٹھائی گئی جس سے حضرت ممدوح مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔ہاں عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے باراں حواری بھی کچھ کچھ روحانی برکتوں کو ظاہر کیا کرتے تھے۔لیکن ان کا یہ بھی تو قول ہے کہ وہی عیسائی مذہب کے باراں امام آسمانی نوروں اور الہاموں کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے بعد آسمان کے دروازوں پر پکے قفل لگ گئے اور پھر کسی عیسائی پر وہ کبوتر نازل نہ ہوا کہ جو اول حضرت مسیح پر نازل ہو کر پھر آگ کے شعلوں کا بہروپ بدل کر حواریوں پر نازل ہوا تھا۔گویا ایمان کا وہ نورانی دانہ کہ جس کے شوق میں وہ آسانی کبوتر اتر کر تا تھا انہیں کے ہاتھ میں تھا اور پھر بجائے اس دانہ کے عیسائیوں کے ہاتھ میں دنیا کمانے کی پھائی رہ گئی جس کو دیکھ کر وہ کبوتر آسمان کی طرف اُڑ گیا۔غرض بجز قرآن شریف کے اور کوئی ذریعہ آسمانی نوروں کی تحصیل کا موجود نہیں۔اور خدا نے اس غرض سے کہ حق اور باطل میں ہمیشہ کے لئے مابہ الامتیاز قائم رہے۔اور کسی زمانہ میں جھوٹ سچ کا مقابلہ نہ کر سکے۔اُمت محمدیہ کو انتہاء زمانہ تک یہ دو معجزے یعنے اعجاز کلام قرآن اور اعجاز اثر کلام قرآن عطا فرمائے ہیں جن کے مقابلہ سے مذاہب باطلہ ابتداء سے عاجز چلے آتے ہیں۔اور اگر صرف اعجاز کلام قرآن کا معجزہ ہوتا اور اعجاز اثر قرآن کا معجزہ نہ ہو تا تو امت مرحومہ محمدیہ کو آثار اور انوار ایمان میں کیا زیادتی ہوتی۔کیونکہ مجر دزہد اور عفت اعجاز کی حد تک نہیں پہنچ سکتا۔103 اور یہی فرقان مجید کے الہامی / کلام الہی ہونے کا ثبوت بہ صورت اعجاز اثر قرآن ہے جس سے مولوی چراغ علی محروم محض ہیں۔اسی طرح مولوی چراغ علی صاحب کے غالی پر چارک مولوی عبد الحق صاحب اپنے نتائج کے استخراج میں بے بصر ہیں۔6-12۔ہنود پر اعتراضات / دید پر اعتراضات جن تحریروں سے مولوی عبد الحق صاحب ، براہین احمدیہ میں حضرت مرزا صاحب کو مولوی چراغ علی صاحب سے مدد لینا ثابت کرنا چاہتے ہیں اُن میں سے ایک تحریر درج بالا مضمون کے بارے میں ہے۔حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: “ میں اس جستجو میں بھی ہوں۔۔۔ہنود کے دید اور اُن کے دین پر سخت سخت اعتراض کئے جائیں کیونکہ اکثر جاہل ایسے بھی ہیں کہ جب تک اپنی کتاب کا نا چیز اور باطل اور خلاف حق ہونا ان کے ذہن نشین نہ ہو تب تک گو کیسی ہی خوبیاں اور دلائل حقانیت قرآن مجید کے اُن پر ثابت کئے جائیں ، اپنے دین کی طرفداری سے باز نہیں آتے اور یہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم اسی میں گزارہ کر لیں گے۔سو میرا ارادہ ہے کہ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا۔104 مولوی چراغ علی صاحب نے اگر کوئی مضمون حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا تو آپ یقیناً اس کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دیتے۔لیکن جب مولوی چراغ علی صاحب نے کوئی مضمون بھیجوایا ہی نہ ہو اور نہ ہی مولوی صاحب موصوف نے اس موضوع سے متعلق کچھ لکھا ہو تو مقابلہ و موازنہ کس طرح کیا جائے؟ جبکہ موازنے کے متعلق حضرت مرزا صاحب براہین احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں۔اسے یہاں دوبارہ درج کیا جاتا ہے۔(اگرچہ اس کا اندراج اسی کتاب میں پہلے بھی کیا جا چکا ہے ) : بلاغت کے آزمانے کے لیے یہی سہل طریق ہے کہ جن دو کلاموں کا موازنہ و مقابلہ منظور ہو اُن کی قوتِ بیانی کو دیکھا جائے کہ کس مرتبہ تک ہے اور اپنے فرضِ منصبی کے ادا کرنے کیلئے کیسی کیسی موشگافی و دقیقہ رسی انہوں