براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 162
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام خوش ہوں۔" 100"۔۔محمد رسول اللہ صلی الم کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام فرشتہ کے ذریعہ بھیجا اور مسیح پر ایک کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا۔کبوتر سے انہوں نے کیا ڈرنا تھا کبوتر تو وہ جانور ہے جس کی ہڈیاں بھی انسان چبا جاتا ہے۔یہی عیسوی اور محمدی بجلی کا فرق ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے قرآنی تعلیم کو شرک سے محفوظ رکھا لیکن عیسائیت پر شیطان غالب آگیا کیونکہ عیسائی مذہب پر روح القدس ایک نہایت ہی کمزور شکل پر نازل ہوا تھا۔۔غرض انجیل کی آیات سے یہ امر ظاہر ہے کہ یسوع کو ایک کبوتری کے نظارہ میں پہلا جلوہ ہوا جبکہ رسول کریم صلی ملک کو ایک کامل القویٰ انسان کی شکل میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آگ کی صورت میں۔پھر موسیٰ کا شک اور خوف بھی ثابت ہے اور مسیح کا بھی۔کیونکہ شیطان کا چلنا اور مسیح کا اُس کے پیچھے جانا تر در اور شک پر ہی دلالت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اُنکے دل میں اُس وقت انہی کلام پر وہ یقین اور وثوق پیدا نہیں ہو اجو بعد میں جاکر پید ا ہوا۔۔۔۔رسول کریم صلی ای کم اور سابق انبیاء کی بد روحی کے واقعات کا جب آپس میں مقابلہ کیا جائے تو اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ رسول کریم صلی ایم کی وحی باقی انبیاء کی وحیوں میں ایک ممتاز مقام رکھ رکھتی ہے۔۔۔۔101 " بالله اعجاز اثر کلام قرآن حضرت مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں: اعجاز کلام قرآن کے بیان پر تو یہ ساری کتاب مشتمل ہے۔102" اعجاز اثر کلام قرآن کی نسبت ہم یہ ثبوت رکھتے ہیں کہ آج تک کوئی ایسی صدی نہیں گزری جس میں خدائے تعالیٰ نے مستعد اور طالب حق لوگوں کو قرآن شریف کی پوری پوری پیروی کرنے سے کامل روشنی تک نہیں پہنچایا۔اور اب بھی طالبوں کے لئے اس روشنی کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے۔۔۔وہی برکتیں اب بھی جو ئیندوں کے لئے مشہور ہو سکتی ہیں جس کا جی چاہے صدق قدم سے رجوع کرے اور دیکھے اور اپنی عاقبت کو درست کر لے۔انشاء اللہ تعالیٰ ہر یک طالب صادق اپنے مطلب کو پائے گا اور ہر یک صاحب بصارت اس دین کی عظمت کو دیکھے گا۔مگر کون ہمارے سامنے آکر اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ وہ آسمانی نور ہمارے کسی مخالف میں بھی موجود ہے۔اور جس نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور افضلیت اور قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے سے انکار کیا ہے۔وہ بھی کوئی روحانی برکت اور آسمانی تائید اپنی شامل حال رکھتا ہے۔کیا کوئی زمین کے اُس سرے سے اس سرے تک ایسا منفس ہے کہ قرآن شریف کے ان چپکتے ہوئے نوروں کا مقابلہ کر سکے۔کوئی نہیں ایک بھی نہیں۔بلکہ وہ لوگ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں ان کے ہاتھ میں بھی بجز باتوں ہی باتوں کے اور خاک بھی نہیں۔حضرت موسیٰ کے پیرو یہ کہتے ہیں کہ جب سے حضرت موسیٰ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو ساتھ ہی ان کا عصا بھی کوچ کر گیا کہ جو سانپ بنا کرتا تھا۔اور جو لوگ حضرت عیسی کے اتباع کے مدعی ہیں۔ان کا یہ بیان ہے کہ جب حضرت عیسی 162