براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 161 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 161

161 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران ہوئے کہ یہ عجیب بات ہے کہ درخت کے ارد گرد آگ بھی ہے اور وہ جلتا بھی نہیں۔چنانچہ وہ اس نظارہ کو دیکھنے کے لیے آگے بڑھے تب: خدا نے اسی بوٹے کے اندر سے پکارا اور کہا کہ اے موسیٰ اے موسیٰ ! وہ بولا میں یہاں ہوں۔تب اُس نے کہا یہاں نزدیک مت آ اپنے پاؤں سے جوتا اتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔پھر اُس نے کہا میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا۔99 اب دیکھو رسول کریم صلی کم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بدروحی میں کتنا فرق ہے۔رسول کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب انہوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا تو۔۔۔دَنَا فَتَدَلي (النجم:9) محمد رسول اللہ صلی اہل علم خدا تعالیٰ کی طرف دوڑے اور خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی یم کی طرف دوڑا اور یہی عشق کامل کی علامت ہوتی ہے۔۔مگر موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا واقعہ ہو اجب انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو خدا تعالیٰ نے اُن سے کہا " یہاں نزدیک مت آ پھر ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ “ اپنے پاؤں سے جو تا اُتار کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے۔مگر محمد رسول اللہ صلی الی یم کو جو تا اتارنے کا حکم نہیں دیا گیا۔۔۔چونکہ موسیٰ کا مقام وہ نہیں تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللی علم کا تھا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اُس وقت جو کچھ کہا گیاوہ یہ ہے کہ “میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔اس میں کو نسا معرفت کا نکتہ بیان ہے یا کونسا کمال ہے جو اس کلام میں پایا جاتا ہے ؟ ایک موٹی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے۔وہیری اور اُس کے ساتھی تو اعتراض کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی للی کم پر وحی نازل ہوئی تو وہ ڈر گئے اور اُن کے کندھے کانپنے لگ گئے۔مگر وہ م الله یہ نہیں دیکھتے کہ یہاں صاف لکھا ہے کہ موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر ڈالنے سے ڈرتا تھا۔” بڑا آدمی اگر کسی بات سے گھبراتا ہے تو اس کے کندھے کانپنے لگ جاتے ہیں لیکن بچے جب کسی بات سے ڈرتے ہیں تو اپنا منہ چھپا لیتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی بڑ آدمی ڈرے تو وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لے لیکن بچوں کو تم روزانہ دیکھو گے کہ جب وہ ڈرتے ہیں فوراً اپنا منہ چھپا لیتے ہیں۔یہی بچوں والی حرکت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کی کہ خدا تعالیٰ کو دیکھا تو ڈر کر اپنا منہ چھپا لیا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی می کنم چونکہ روحانی لحاظ سے ایک جوان اور مضبوط آدمی کی حیثیت رکھتے تھے اس لیے آپ نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں صرف گھبراہٹ سے آپ کے کندھے ملنے شروع ہو گئے۔۔۔ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی بدروحی کے واقعات دیکھتے ہیں۔متی باب 3 میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوحنا کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ مجھے پتسمہ دو۔پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر آخر مان لیا اور حضرت مسیح نے یوحنا سے بپتسمہ پایا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کے متعلق انجیل کہتی ہے: “ اور یسوع بپتسمہ پا کے وہیں پانی سے نکل کے اوپر آیا اور دیکھو کہ اُس کے لیے آسمان کھل گیا اور اُس نے خدا کی روح کو کبوتر کی مانند اتر تے دیکھا۔اور دیکھو کہ آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں