براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 157 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 157

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام خوش بیانی اور۔جودت الفاظ اور۔کلام میں کمال سلاست اور نرمی اور روانگی اور آب و تاب اور • لطافت و غیره لوازم حسن کلام اپنا کامل جلوہ دکھا رہے ہیں۔ایسا جلوہ کہ جس پر زیادت متصور نہیں اور وحشت کلمات اور تعقید ترکیبات سے بکلی سالم اور بری ہے۔۔هر یک فقرہ اس کا نہایت فصیح اور بلیغ ہے اور • • 157 ہر یک ترکیب اس کی اپنے اپنے موقعہ پر واقعہ ہے اور ہر یک قسم کا التزام جس سے حسن کلام بڑھتا ہے اور لطافت عبارت کھلتی ہے سب اس میں پایا جاتا ہے اور۔جس قدر حسن تقریر کے لئے بلاغت اور خوش بیانی کا اعلیٰ سے درجہ ذہن میں آسکتا ہے وہ کامل طور پر اس میں موجود اور مشہور ہے اور۔جس قدر مطلب کے دل نشین کرنے کے لئے حسن بیان در کار ہے وہ سب اس میں مہیا اور موجود ہے اور باوجود اس بلاغت معانی اور التزام کمالیت حسن بیان کے صدق اور راستی کی خوشبو سے بھرا ہوا ہے کوئی مبالغہ ایسا نہیں جس میں جھوٹ کی ذرا آمیزش ہو کوئی رنگینی عبارت اس قسم کی نہیں جس میں شاعروں کی طرح جھوٹ اور ہنرل اور فضول گوئی کی نجاست اور بد بو سے مد دلی گئی ہو۔یہ کلام صداقت اور راستی کی لطیف خوشبو سے بھرا ہوا ہے اور پھر اس خوشبو کے ساتھ خوش بیانی اور جودت الفاظ اور رنگینی اور صفائی عبارت کو ایسا جمع کیا گیا ہے کہ جیسے گلاب کے پھول میں خوشبو کے ساتھ اس کی خوش رنگی اور صفائی بھی جمع ہوتی ہے۔باعتبار باطن کے سورۃ فاتحہ کے خواص۔وہ بڑی بڑی امراض روحانی کے علاج پر مشتمل ہے اور • تحمیل قوت علمی اور عملی کے لئے بہت سا سامان اس میں موجود ہے اور بڑے بڑے بگاڑوں کی اصلاح کرتی ہے اور۔بڑے بڑے معارف اور دقائق اور لطائف کہ جو حکیموں اور فلسفیوں کی نظر سے چھپے رہے اس میں مذکور ہیں۔• • سالک کے دل کو اس کے پڑھنے سے یقینی قوت بڑھتی ہے اور شک اور شبہ اور ضلالت کی بیماری سے شفا حاصل ہوتی ہے اور۔بہت سی اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور نہایت باریک حقیقتیں کہ جو تکمیل نفس ناطقہ کے لئے ضروری ہیں۔اس کے مبارک مضمون میں بھری ہوئی ہیں۔