براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 151 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 151

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 151 اسی کیفیت میں ایک مرض جسمانی یعنی صرع دوری سے اور یہی اسعال (کذا۔غالباً یہاں لفظ اشتعال استعمال ہوا ہے۔ناقل ) ہوا جس میں انہیں ایسا تصور ہوا کہ مجھے خدا سے وحی آتی ہے اور علی الا علی کا مین نبی ہو گیا ہوں۔پس اب ہم کو یہی تصور کرنا چاہئے کہ انکو اغترار (+ کا نشان لگا کہ بالمقابل حاشیہ میں لکھا ہے دھوکے میں پڑ جانا 84 اور ڈکشنری میں لکھا ہے being deceived ناقل) ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنے رویا یا خیال کو حقیقت میں یقین باور کر لیا تھا۔ایک مرتبہ رسالت الہیہ کا حکم بدعوت ایمانیہ متخیل ہو چکا تو اور سب بعد کے احلام و تصورات اسی محل پر حمل کیے جاتے تھے۔ان سب کو یہ سمجھ لیا ہو گا کہ مشیت الہی کے اخبار ہیں جو نبوت کی حیثیت کے بانحاء مختلفہ وحی کئے جاتے ہیں۔جوش اور تحریک کی حالت میں ہم ان کو بالتخصیص وجد اور غشی میں پاتے ہیں۔یہان پر انہوں نے اپنے آپ کو معرض مکالمت الہبیہ میں گمان کر لیا ہو گا۔" 85 مولوی چراغ علی صاحب اس اقتباس کی تمہید میں اس کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں کہ “ ایسے روشن اور صاف امر حق (یعنی صداقت محمدیہ۔ناقل ) کی تکذیب کر سکتے ہیں اور نہ اپنی عصبیت یا سوء منہمی سے اس کی حقیقت کا اقرار" لیکن مولوی چراغ علی صاحب کو ارونگ واشنگٹن کی عصبیت یا سوء فہمی کا احساس ہی نہیں ہو تاجب موصوف لکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی ا یکی کو اغترار ” ( دھوکے میں پڑے) ہوا اور ثم نعوذ باللہ آپ نے اپنے آپ کو معرض مکالمت الہیہ گمان کر لیا گویا یہ سب دھوکا تھا لیکن مولوی چراغ علی صاحب کو اس سے عصبیت اور سوء فہمی کی بجائے کیا محسوس ہو تا ہے لکھتے ہیں: اس تقریر سے ہماری دلیل کی قوت اور جناب نبوی کے دعوی کی صداقت بخوبی ہوتی ہے اور ایسے ہی مخالفین کے جواب کا ضعف اور توجیہ کا لا طائل ہونا بھی کالنور علی شابق الطور ظاہر ہے کیونکہ یہ بات تو مسفم ہو چکی کہ یہ دعویٰ آنحضرت کا نہ تو جھوٹ تھا اور نہ اس سے کوئی دنیوی غرض مراد تھی۔86 گویا نعوذ باللہ مولوی چراغ علی صاحب نے آنحضرت کی وحی / مکالمت الہیہ کو ثم نعوذ باللہ اغترار ( دھو کہ مان لیا۔اور مولوی چراغ علی اس سے “ جناب نبوی کے دعوی کی صداقت ثابت کر رہے ہیں !!؟ تو پھر مخالفت کیا ہوتی ہے !!؟ اس کے بعد مولوی چراغ علی صاحب نے چار امور جو ارونگ نے اٹھائے ہیں اُن پر بحث کی ہے یعنی: 1- مرض صرع -2 غشی کی کیفیت رویاء حقیقی اور مکاشفات الہیہ میں واہمہ کادخل 4 کیفیت توجہ و براهیختگی اور اس کے جوش اور بہیجان میں اپنے کو مشرف بمکالمت تصور کر لینا۔و دوسرے امر کی بابت مولوی چراغ علی صاحب لکھتے ہیں : وہ غشی کی کیفیت جو اگر اس کا تکرار اور استمرار ثابت ہو سکے تو ممکن ہے کہ از قبیل اثر الہی ہو جو کہ احساس وحی اور مشاہدہ ملائکہ اور استشعار تنزیل مین ہوتی ہو جیسے موسیٰ کی حالت کوہ طور پر مساءلت رویت الہی اور پولوس کی کیفیت مسیح کی جلوہ گری پر ہوئی تھی۔پس ایسے احساس اور ادراک صحیح کی باتیں قوی العقل اور صاحب جودت قریحہ کو دھو کہ میں نہیں ڈال سکتیں۔" 87 جسے ارونگ غشی قرار دیتا ہے اُس پر بھی مولوی چراغ علی صاحب کو یقین نہیں بلکہ لکھتے ہیں“اگر اس کا تکرار (بار بار ہونا) اور