براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 150 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 150

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام عشق حق ہے بات اس کی یاد آتی دل ساری خلق جاتی ہے سینہ نقش حق جھاتی ہے دل ل خدا اٹھاتی ہے درد مندوں کی روا وہی خدا ނ خدا ú وہی مخور بدی وہی ہم نے ها ہے دار با وہی 5555 ایک ایک ایک ایک اس کے جو بات یونہی اک واہیات بات ہو کہ میرے پاس آویں v v go go g9555 ہیں ہیں میرے مجھ ނ وہ بات کہہ جاویں کا حال سنیں مجھ آنکھ و جمال سنیں خیر کان سہی یوں ہی امتحان سہی 79 150 6-11۔کلام الہی سہی پھوٹی وہ تو دلستاں صورت خورشید (سورج ) کا مخفف ہے۔ناقل 82 81", مولوی چراغ علی صاحب اپنی کتاب “ تعلیقات ”بجو اب پادری عماد الدین کے پیر انمبر 13 میں لکھتے ہیں : صریحاً ثابت ہو تا ہے کہ وہ ( حضرت محمد صلی یک داعیہ الہی کے بیان اور دعوی ثبوت میں سچے تھے۔" 80 اسے موصوف کسی “سبق ظن اور عصبیت thinking before or prejudice پر محمول نہیں کرتے بلکہ اسے “صریحی واقعات اور درایات کی بحث " 22 قرار دیتے ہیں۔اس کے ثبوت میں حسب عادت مستشرق واشنگٹن ارونگ کا حوالہ ان تحفظات (reservations) کے ساتھ درج کرتے ہیں:۔ایسے واقعی اور صریحی امر راست کے جواب میں مخالفین نہ تو ایسے روشن اور صاف امر حق کی تکذیب کر سکتے ہیں اور نہ اپنی عصبیت یا سوء منہجی سے اس کی حقیقت کا اقرار چنانچہ ارونگ متصل لکھتا ہے۔” 83 آگے جو عبارت درج کی ہے اُس کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے: ان یعنی آنحضرت صلی ا لم - ناقل) گوشہ نشینی اور روزہ داری و نماز و تفکر سے انکا غلو اور قوت متخیلہ درجہ درجہ متز اند ہوتی گئی اور