براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 149
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 149 نہیں۔اور بذات خود چاہتے ہیں کہ انجیل کا قرآن شریف سے مقابلہ کریں تو بسم اللہ آئے اور انجیل میں سے وہ کمالات نکال کر دکھلائیے کہ جو ہم نے اسی کتاب میں قرآن شریف کی نسبت ثابت کئے ہیں تا منصف لوگ آپ ہی دیکھ لیں کہ معرفت الہی کا سامان قرآن شریف میں موجود ہے یا انجیل میں۔جس حالت میں ہم نے اسی فیصلہ کے لئے کہ تا انجیل اور قرآن شریف کی نسبت فرق معلوم ہو جائے دس ہزار روپیہ کا اشتہار بھی اپنی کتاب کے ساتھ شامل کر دیا ہے تو پھر آپ جب تک راست بازوں کی طرح اب ہماری کتاب کے مقابلہ پر اپنی انجیل کے فضائل نہ دکھلا دیں تب تک کوئی دانشمند عیسائی بھی آپ کی کلام کو اپنے دل میں صحیح نہیں سمجھے گا۔گو زبان سے ہاں ہاں کر تار ہے۔"77 قرآن شریف کی تعلیم کے بارے میں زبان درازی محض پادری صاحب کی فضول گوئی تھی۔اس کے بارے میں حضرت مرزا صاحب اپنی ایک طویل نظم میں جو “ آؤ عیسائیو! ادھر آؤ۔نور حق دیکھو۔راہ حق پاؤ” کے شعر سے شروع ہوتی ہے۔اس کے شروع کرنے سے قبل حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: اب منصفو!! نظر کرو۔اور خدا کے واسطے ذرہ دل کو صاف کر کے سوچو کہ ہمارے مخالفوں کی ایمانداری اور خداترسی کس قسم کی ہے کہ باوجو د لا جواب رہنے کے پھر بھی فضول گوئی سے باز نہیں آتے۔78 مذکورہ نظم کے چند اشعار بطور نمونہ یہاں درج کیے جاتے ہیں: ہے فرقاں میں اک عجیب اثر بناتا عاشق دلبر جس قادر اکبر اس کی سے ل کوئے دلبر لاتا ہے پھر تو کیا کیا نشان دکھاتا ہے دل میں وقت نور ہر بھرتا ہے کو سینہ خوب صاف کرتا ہے اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو جاں کو اور اک جاں نیر اکبر وہ اس انکار ہو سکے کیونکر وہ دلستاں تلک لایا اس کے پانے پایا بحر حل وہ کلام تمام