براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 142
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام۔ایک دنیا کا کس نے خون کیا؟ انہیں تالیفات اربعہ نے جن اعتقادوں کی طرف مخلوق پرستوں کا نفس امارہ جھلکتا گیا اُسی طرف ترجمہ کرنے کے وقت ان کے الفاظ بھی جھکتے گئے۔کیونکہ انسان کے الفاظ ہمیشہ اس کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں۔غرض انجیل کی ہمیشہ کا یا پلٹ کرتے رہنے سے اب وہ کچھ اور ہی چیز ہے اور خدا بھی اس کی تعلیم موجودہ کے رُو سے وہ اصلی خدا نہیں کہ جو ہمیشہ حدوث اور تولد اور تجسم اور موت سے پاک تھا۔بلکہ انجیل کی تعلیم کی رُو سے عیسائیوں کا خدا ایک نیا خدا ہے یا وہی خدا ہے کہ جس پر بد قسمتی سے بہت سی مصیبتیں آئیں اور آخری حال اُس کا پہلے حال سے کہ جو از لی اور قدیم تھا بالکل بدل گیا۔اور ہمیشہ قیوم اور غیر متبدل رہ کر آخر کار تمام قیومی اس کی خاک میں مل گئی۔62", 142 ماسوائے اس کے عیسائیوں کے محققین کو خود اقرار ہے کہ ساری انجیل الہامی طور پر نہیں لکھی گئی بلکہ متی وغیرہ نے بہت سی باتیں اُس کی لوگوں سے سن سنا کر لکھی ہیں اور لوقا کی انجیل میں تو خو د لو قا اقرار کرتا ہے کہ جن لوگوں نے مسیح کو دیکھا تھا ان سے دریافت کر کے میں نے لکھا ہے۔پس اس تقریر میں خو د لو قا اقراری ہے کہ اس کی انجیل الہامی نہیں۔کیونکہ الہام کے بعد لوگوں سے پوچھنے کی کیا حاجت تھی۔پھر اسی طرح مرقس کا مسیح کے شاگردوں میں سے ہونا ثابت نہیں۔پھر وہ نبی کیونکر ہوا۔بہر حال چاروں انجیلیں نہ اپنی صحت پر قائم ہیں اور نہ اپنے سب بیان کے رو سے الہامی ہیں اور اسی وجہ سے انجیلوں کے واقعات میں طرح طرح کی غلطیاں پڑ گئیں اور کچھ کا کچھ لکھا گیا۔غرض اس بات پر عیسائیوں کے کامل محققین کا اتفاق ہو چکا ہے کہ انجیل خالص خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ پتے داری گاؤں کی طرح کچھ خدا کا کچھ انسان کا ہے۔۔۔اس کے بعد حضرت مرزا صاحب نے انجیل کی تعلیم دربارہ عفو، در گذر، نیکی اور احسان پر نظر ڈال کر ثابت کیا ہے کہ یہ تعلیم انسانی طاقتوں سے برتر تعلیم ہے جو صفحہ 396 سے 424 تک ہے اور اس کے مقابلہ پر آیات قرآنیہ ووَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَوة يا أُولِي الألباب۔۔۔۔۔۔(البقرة: 180) مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا (المائدة: 33) سے خدا کے حکم کہ تم عدل اور احسان اور ایتاء ذی القربیٰ اپنے اپنے محل پر کرو، کو تحریر فرمایا ہے: “سو جانا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم اس کمال کے مرتبہ سے جس سے نظام عالم مربوط و مضبوط ہے منتنزل و فروتر ہے۔اور اس تعلیم کو کامل خیال کرنا بھی بھاری غلطی ہے ایسی تعلیم ہر گز کامل نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ان ایام کی تدبیر ہے کہ جب قوم بنی اسرائیل کا اندرونی رحم بہت کم ہو گیا تھا اور بے رحمی اور بے مروتی اور سنگدلی اور قساوت قلبی اور کینہ کشی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی اور خدا کو منظور تھا کہ جیساوہ لوگ مبالغہ سے کینہ کشی کی طرف مائل تھے۔ایسا ہی بمبالغہ تمام رحم اور در گزر کی طرف مائل کیا جاوے لیکن یہ رحم اور در گذر کی تعلیم ایسی تعلیم نہ تھی کہ جو ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی۔کیونکہ حقیقی مرکز پر اس کی بنیاد نہ تھی بلکہ اُسی قانون کی طرح جو مختص المقام ہوتا ہے صرف سرکش یہودیوں کی اصلاح کے لئے ایک خاص مصلحت تھی اور صرف چند روزہ انتظام تھا۔اور مسیح کو خوب معلوم تھا کہ خدا جلد تر اس عارضی تعلیم کو نیست و نابود کر کے اس کامل کتاب کو دنیا کی تعلیم کے لئے بھیجے گا کہ جو حقیقی