براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 141 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 141

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 141 کتاب کے بارے میں ہے پر لکھا جا چکا ہے۔دوسرے حصہ کے بارے میں جس سے پہلا حصہ مستثنیٰ نہیں ہے مولوی چراغ علی صاحب لکھتے ہیں جو کتاب کے آخری صفحات پر درج ہے: خصائص کا ذکر سیرت کی کتابوں میں غیر منضبط طریق سے ہوتا ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ خصائص کا شمار یا استقراء داخل عقائد ایمانیہ نہیں اور نہ کسی مقام پر قرآن شریف میں کہیں ان کو جمع کیا اور نہ کسی حدیث میں اس کا استیعاب ہوا۔مگر روایتوں کے جمع کرنے والوں نے اقوال صحابہ و تابعین 60 اس داخل عقائد ایمانیہ والی بات کے قطع نظر اس امر کے کہ مولوی صاحب کے مطابق اس سے آنحضرت صلی کمی کی ذات گرامی پر نعوذ باللہ حرف آتا ہے لیکن اُن باتوں میں جن کو مولوی چراغ علی صاحب عقائد ایمانیہ تسلیم کرتے ہیں ان پر کیے گئے اعتراضات کا جواب تو دے دیتے لیکن اُن کے بارے میں لکھنے سے مولوی صاحب موصوف نے پہلو تہی کی ہے ! کیوں ؟ جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے یہ مولوی چراغ علی صاحب کا میدان ہی نہیں تھا اور نہ ہی موصوف کے مقتداؤں کرامت علی جونپوری اور سرسید کا یہ میدان تھا! ہم زیر نظر موضوع “ فرقان مجید کے الہامی / کلام الہی ہونے کے ثبوت کے بارے میں پچھلے مضمون کے تسلسل میں حضرت مرزا صاحب کی تحریروں ہی کے حوالے سے اُن امور کے بارے میں بات کریں گے جنہیں پادری صاحب نے اپنی کتاب کے حصہ دوم تعلیم محمدی ” کے دیباچے اور مقدمہ میں اٹھایا ہے اور مولوی چراغ علی صاحب نے اپنی کتاب تعلیقات ” میں انہیں زیر بحث نہیں لایا۔اس سلسلے میں ہم اُن امور کو اُن کے متعلقہ مقامات پر زیر بحث لائیں گے جو ہمارے خصوصی تقابلی مطالعے کے تحت لائے جاسکتے ہیں۔پادری عماد الدین صاحب لکھتے ہیں: قرآن شریف اور انجیل کا موازنہ “صرف بائیبل ہی خدا کا کلام ہے ”اور “ تعلیم محمدی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ” 61 حضرت مرزا صاحب پنڈت شیو نرائن اگنی ہوتری کے پرچہ دھرم جیون ” کے جنوری 1883ء کے شمارہ کا ذکر کرتے ہوئے حاشیہ نمبر 11 کی عبارت پر ایک حاشیہ کا اضافہ فرماتے ہیں جس میں مذکورہ بالا عنوان کا بہ تمام و کمال جواب آگیا ہے۔اس جواب کا ایک حصہ اس سلسلہ میں نقل کیا جاتا ہے۔حضرت مرزا صاحب اسی براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں تحریر فرماتے ہیں: “ اس بات پر عیسائیوں کو بھی نہایت توجہ سے غور کرنی چاہئے کہ خدائے بے مثل و مانند اور کامل کے کلام میں کن کن نشانیوں کا ہونا ضروری ہے۔کیونکہ ان کی انجیل بوجہ محترف اور مبدل ہو جانے کے ان نشانیوں سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہے بلکہ الہی نشان تو یک طرف رہے معمولی راستے اور صداقت بھی کہ جو ایک منصف اور دانشمند متکلم کے کلام میں ہونی چاہئے انجیل کو نصیب نہیں۔کم بخت مخلوق پرستوں نے خدا کی کلام کو، خدا کی ہدایت کو، خدا کے نور کو اپنے ظلمانی خیالات سے ایسا ملا دیا کہ اب وہ کتاب بجائے رہبری کے رہزنی کا ایک پکاذریعہ ہے۔ایک عالم کو کس نے توحید سے برگشتہ کیا؟ اسی مصنوعی انجیل نے۔