براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 140 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 140

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام متواتر تجربه خود اس خاکسار (یعنی حضرت مرزا صاحب) کا اس بات کا شاہد ہے۔یہاں مناسب ہو گا کہ کچھ مزید روشنی بھی اس بارے میں ڈالی جائے جو حضرت مرزا صاحب کے ہی الفاظ میں درج ہے کہ : الہام " خدا کا پاک کلام اس کی آواز اس کی وحی ہے۔" خیالی الہام سراسر غلط اور جھوٹ ہے۔اگر چہ انسانی خیالات کا علت العلل بھی خدا ہے۔اور خدا ہی دلوں میں ڈالتا ہے اور عقلوں کو راہ دکھاتا ہے۔لیکن وہ الہام کو جو حقیقت میں خدا کا پاک کلام ہے اور اس کا آواز اور اس کی وحی ہے۔وہ انسان کے فطرتی خیالات سے برتر و اعلیٰ ہے۔وہ حضرت خدا تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے کاملوں کے دلوں پر نازل ہوتا اور خدا کا کلام ہونے کی وجہ سے خدا کی برکتوں کو اپنی ہمراہ رکھتا ہے۔خدا کی قدرتوں کو اپنی ہمراہ رکھتا ہے۔خدا کی پاک سچائیوں کو اپنی ہمراہ رکھتا ہے۔لاریب فیہ ہونا اس میں ایک ذاتی خاصیت ہے۔اور جس طرح خوشبو عطر کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔اسی طرح وہ خدا کی ذات اور صفات کے وجود پر قطعی اور یقینی دلالت کرتا ہے۔لیکن انسان کے اپنے ہی خیالات یہ مرتبہ حاصل نہیں کر سکتے۔کیونکہ جس طرح انسان پر ضعف مخلوقیت ہے اسی طرح انسانی خیالات پر وہ ضعف غالب ہے۔جو کچھ قادر مطلق کے چشمہ سے نکلتا ہے وہ اور چیز ہے اور جو کچھ انسانی طبیعت سے پید اہوتا ہے وہ اور ہے۔59 140 یہ تمام او پر درج کی گئی تمہید فرقان مجید کے الہام / کلام الہی ہونے کے ثبوت کو ایک آئینے کی طرح واضح کرنے کے لئے پیش کی گئی ہے۔اور حضرت مرزا صاحب کے افاضات مندرجہ براہین احمدیہ سے لے کر دی گئی ہے اور اس سے قبل مولوی چراغ علی صاحب کے خیالات بھی پیش کیے گئے ہیں جن کے قبول کرنے سے تعلیمات اسلامیہ کو ہاتھ سے دینا پڑتا ہے اور برہمو سماج کے خیالات دربارہ الہام کو قبول کرنا پڑتا ہے ! مولوی چراغ علی صاحب کو جس مقام پر ان خیالات کے اظہار کی ضرورت تھی وہاں پر موصوف ، موضوع سے ہٹ کر بات کرتے رہے اور اصل موضوع پر اظہار خیال سرے سے کیا ہی نہیں ! جیسا کہ موصوف کی مصنفہ کتاب تعلیقات ” میں یہ طریق کار اپنایا گیا ہے۔جس کی پیشانی پر آپ لکھتے ہیں پادری عماد الدین صاحب کی کتاب تاریخ محمدی کی وضع تالیف اور کیفیت مآخذ پر نظر دقیق ”اگر اس کو ہی مولوی صاحب موصوف نظر دقیق ” کہتے ہیں تو نا معلوم غیر ذمہ دارانہ نظر کے کہا جائے ؟ کیونکہ موصوف نے دعویٰ کیا پادری صاحب کی کتاب پر نظر دقیق ڈالنے کا، لیکن جن معاملات پر اُن کی مرضی ہوئی ہے نظر ڈالی ہے اور جہاں دل نہیں چاہا انہیں ذکر کیے بغیر ہی چھوڑ دیا ہے۔در اصل ان امور سے مولوی چراغ علی صاحب نابلد محض تھے۔اس لیے ان پر خامہ فرسائی نہیں کی اور پھر کہیں جا کر کسی دوسری جگہ سرسری طور پر کچھ لکھا بھی ہے تو وہ اسلام کو بجائے فائدے کے نقصان دہ ہے۔شروع شروع میں اسلامی عقائد میں اپنی اپج پیدا کرتے رہے پھر جب کرامت علی جونپوری اور سرسید ( اور اسی طرح برہمو سماجیوں) کے زیر اثر آئے تو اور کھل گئے جن سے موصوف عین مستشرقین کے مزاج کے موافق لکھنے لگے بلکہ مستشرقین ہی اُن کا اوڑھنا بچھونا ہو گئے۔پادری عماد الدین کی کتاب تواریخ محمدی ” کے دو حصے ہیں پہلے حصے میں تاریخ محمدی پر پادری صاحب نے بات کی ہے اور دوسرے میں تعلیم محمدی پر اپنی سمجھ کے مطابق بتفصیل لکھا ہے۔مولوی چراغ علی صاحب کے حوالے سے اُن کی کتاب “تعلیقات ”جو زیر نظر