براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 120
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 120 کہ ایک ہی صاحب رائے صائب و پختہ کار باوقار و سلیم القلب و غیر متزلزل کے رشحات قلم و نتائج فہم معلوم ہوتی ہیں حالانکہ ضروری اور بلزوم عقلی ثابت ہے کہ جس امر کی ترکیب میں اشخاص متعدد و وجود متکثر و اصحاب آراء متنوعه و ارباب طبائع مختلفه شریک و سہیم ہونگے ان کے منشات و مناظر و آراء و مدارک میں ضرور تخالف و تناقض ہو گا اور اس میں وحدت خیالات اور یگانگت منشاء نہ پائی جاوے گی "25 اب ذرا ملاحظہ ہو اثبات نبوت محمدیہ صلی الظلم به لحاظ امیت۔چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی براہین احمدیہ میں کس شان و شوکت سے اس بارے میں درج فرماتے ہیں جس کے “ مقابلہ ” میں مولوی چراغ علی صاحب کے دلائل کی وہی مثال ہے جس طرح کسی شخص کو کسی چیز کا ایک دھندلا سا خیال آئے اور ایک شخص پر اس کی حقیقت کھل جائے۔(یہ مثال شبلی نعمانی نے سوانح مولانا روم میں کسی اور حوالے سے استعمال کی ہے جو اپنی پوری شان سے یہاں صادق آتی ہے: 26 “ جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور بد باطن تھے ان کے حالات پر بھی نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی یہ یقین کامل آنحضرت کو اُمّی جانتے تھے اور اسی لئے جب وہ بائیبل کے بعض قصے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور امتحان نبوت پوچھ کر ان کا ٹھیک ٹھیک جواب پاتے تھے تو یہ بات ان کو زبان پر لانے کی مجال نہ تھی کہ آنحضرت کچھ پڑھے لکھے ہیں۔آپ ہی کتابوں کو دیکھ کر جو اب بتلا دیتے ہیں بلکہ جیسے کوئی لاجواب رہ کر اور کھسیانا بن کر کچے عذر پیش کرتا ہے ایسا ہی نہایت ندامت سے یہ کہتے تھے که شاید در پردہ کسی عیسائی یا یہودی عالم بائیبل نے یہ قصے بتلا دیئے ہوں گے۔پس ظاہر ہے اگر آنحضرت کا اُمّی ہونا ان کے دلوں میں یہ یقین کامل متمکن نہ ہوتا تو اسی بات کے ثابت کرنے کے لئے نہایت کوشش کرتے کہ آنحضرت اُمّی نہیں ہیں فلاں مکتب یا مدرسہ میں انہوں نے تعلیم پائی ہے۔واہیات باتیں کرنا جن سے اُن کی حماقت ثابت ہوتی تھی کیا ضرور تھا۔کیونکہ یہ الزام لگانا کہ بعض عالم یہودی اور عیسائی در پردہ آنحضرت کے رفیق اور معاون ہیں بدیہی البطلان تھا۔اس وجہ سے کہ قرآن تو جابجا اہل کتاب کی وحی کو ناقص اور اُن کی کتابوں کو محریف اور مبدل اور ان کے عقائد کو فاسد اور باطل اور خود ان کو بشر طیکہ بے ایمان مریں ملعون اور جہنمی بتلاتا ہے۔اور اُن کے اصولِ مصنوعہ کو دلائل قونیہ سے توڑتا ہے تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ وہ لوگ قرآن شریف سے اپنے مذہب کی آپ ہی مذ مت کرواتے۔اور اپنی کتابوں کا آپ ہی رد لکھاتے اور اپنے مذہب کی بیخ کنی کے آپ ہی موجب بن جاتے پس یہ ست اور نادرست باتیں اس لئے دنیا پر ستوں کو بکنی پڑیں کہ اُن کو عاقلانہ طور پر قدم مارنے کا کسی طرف راستہ نظر نہیں آتا تھا اور آفتاب صداقت کا ایسی پر زور روشنی سے اپنی کر نیں چاروں طرف چھوڑ رہا تھا کہ وہ اُس سے چمگادڑ کی طرح چھپتے پھرتے تھے اور کسی ایک بات پر ان کو ہر گز ثبات و قیام نہ تھا بلکہ تعصب اور شدت عناد نے ان کو سودائیوں اور پاگلوں کی طرح بنارکھا تھا۔پہلے تو قرآن کے قصوں کو سن کر جن میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا ذکر تھا اس وہم میں پڑے کہ شاید ایک شخص اہل کتاب میں سے پوشیدہ طور پر یہ قصے سکھاتا ہو گا جیسا اُن کا یہ مقولہ قرآن شریف میں درج ہے۔اِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ سورۃ النحل الجزو نمبر ۱۴۔اور پھر جب دیکھا کہ قرآن شریف میں صرف قصے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے حقائق ہیں تو پھر یہ دوسری رائے ظاہر کی