براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 14
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 1964ء میں لکھتے ہیں:۔14 “میں نے سنا ہے کہ ڈاکٹر عبد الحق کا کوئی مذہب نہ تھا۔مگر یہ محض سماعی بات ہے ، یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ڈاکٹر عابد حسین (جامعہ ملیہ ) مجھ سے کہتے تھے کہ انہوں نے عبد الحلیم شرر کے ایک پوتے کا نام یزید تجویز کیا تھا۔اگر آپ اس اطلاع سے کام لینا چاہیں تو اس کی ڈاکٹر عابد حسین صاحب سے تصدیق کر لیں ممکن ہے کہ وہ اس کی اشاعت نہ چاہیں۔" خود مولوی عبد الحق صاحب کی اپنی مذہبی معلومات کے بارے میں جو رائے تھی وہ ان کے ڈاکٹر محمد داؤ در ہبر کے 15 نومبر 1955ء (کراچی) کے خط سے عیاں ہے:۔میں نے جو مقالہ سرسید پر لکھا تھا اور جو چند ہم عصر ” میں چھپ گیا۔اس میں، میں نے ان کے مذہب اور سیاست کو نہیں چھیڑ ا۔سیاست کا ذکر سرسری ہے۔مذہب کے متعلق اس لئے کچھ نہیں لکھ سکا کہ اس بارے میں میر اعلم جہل سے بدتر ہے۔" مولوی عبد الحق کے مذہب کے بارے میں عملی کام اور ان کی اپنے بارے میں رائے کہ ان کا علم مذہب کے بارے میں جہل سے بد تر ہے، تضاد کا شکار ہے بسا ممکن ہے کہ وہ اپنی عملی حالت پر نظر کر کے کہتے ہوں کہ میر اعلم جہل سے بدتر ہے لیکن آپ کی تحریریں اور دیگر مطبوعہ کام مذہبی معاملات سے مملو ہے لہذا آپ کا صرف یہ کہہ دینا کہ آپ کا کوئی مذہب نہ تھا صرف ایک ایسی بات ہے ، جو پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی، بلکہ کوئی مذہب نہ ہونا بھی تو ایک مذہب ہی ہے، گویا وہ ایک نئے مذہب پر قدم مارتے رہے۔فی الواقعہ یہ سرسید اور مولوی چراغ علی کے زیر اثر ہے کہ زندگی کے ایک دور میں وہ انگریز حکام کو خوش کرنے کے لئے مذہب بیزاری کا مسلک یا غیر مذہبی ہونا ثابت کرتے رہے، مگر ان کی مطبوعہ تحریریں مذہب سے ہی وابستہ تھیں یہ الگ بات ہے کہ عملی طور پر وہ مذہب کے ظاہری احکام کی پابندی سے بالعموم کوسوں دور تھے اور یہی حال مولوی عبد الحق کا بھی ہے۔اردو ادب کے ایک مولف مولوی عبدالحق کی تصنیف و تالیف کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے اصل مقام کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : بابائے اردو کو صرف ایک مصنف مولف یا اہل قلم کی حیثیت سے جانچنا ان کے مرتبہ کو گھٹانا یا انکی قدر و قیمت کو گرانا ہی نہیں ان کے مرتبہ اور قدر وقیمت سے ناواقفیت کا ثبوت بھی دینا ہے۔انہیں سب سے زیادہ ایک عظیم الشان ثقافتی تحریک کے علمبر دار ، ایک بڑے قومی کار کن ، اردو زبان کے ایک زبر دست خدمت گزار، محقق، مبلغ، محافظ اور شہتیر کی حیثیت سے جانچنا چاہئے۔جس نے اردو پر جو ہندوستانی مسلمانوں میں ایک علیحدہ قومیت کا احساس پیدا کر انے کا سب سے پہلا اور بہت بڑا سبب بنی ہر وار اپنے سینے پر لیا۔ہر موقع پر اسے آگے بڑھایا، اُسے آگے بڑھانے کے مواقع نکالے اور ان مواقع سے اسے فائدہ پہنچایا۔7 سید عابد علی عابد کا انداز اظہار رائے ایک نرالی شان رکھتا تھا۔آپ مولوی عبد الحق کے بارے میں درج کرتے ہیں کہ مولوی عبد الحق اردو کے اولین معماروں میں سے تھے اور ان کا کارنامہ اردو کی عمارت کی تعمیر تھا۔ان کو ادب کے معیار پر پرکھ کر فیصلہ کرنا دیانت داری نہیں ہے۔8 7" مولوی عبد الحق اردو کے بلاشبہ ایک زبر دست خدمتگذار بلکہ اولین معماروں میں سے تھے۔اس حقیقت سے انکار کی زیادہ گنجائش نہیں مگر اس تعمیر میں اگر کوئی صورت مضمر خرابی کی روز روشن کی طرح عیاں ہو اور اس کا محاکمہ نہ کیا جائے تو یہ چشم پوشی بھی دیانت داری کے مترادف نہیں ہے اور یہاں تجاہل عارفانہ سے بھی کام نہیں چل سکتا بلکہ اس کی نشاندہی مولوی صاحب کے اُردو زبان کی خدمت پر پانی نہیں پھیرتی بلکہ ریکارڈ کی