براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 156
156 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام گلاب کے پھول کی دو طور کی خوبیاں گلاب کا پھول بھی مثل اور مصنوعات الہیہ کے ایسی عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں جمع رکھتا ہے جن کی مثل بنانے پر انسان قادر نہیں اور وہ دو طور کی خوبیاں ہیں: جو اس کی ظاہری صورت میں پائی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کا رنگ نہایت خوشنما اور خوب ہے اور اس کی خوشبو نہایت دلآرام اور دلکش ہے اور اس کے ظاہر بدن میں نہایت درجہ کی ملائمت اور ترو تازگی اور نرمی اور نزاکت اور صفائی ہے۔۔۔وہ خوبیاں جو باطنی طور پر گلاب کے پھول میں ہیں یعنی وہ خواص جو باطنی طور پر حکیم مطلق نے اس میں ڈال رکھی ہیں یعنی وہ خواص کہ جو اُس کے جوہر میں پوشیدہ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ :۔وہ مفرح اور مقوی قلب اور مسکن صفرا ہے اور۔تمام قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور صفرا اور بلغم رقیق کا مسہل بھی ہے اور اسی طرح معدہ و جگر اور گردہ اور امعا اور رحم اور پھیپھڑے کو بھی قوت بخشتا ہے اور۔خفقان حار اور غشی اور ضعف قلب کے لیے نہایت مفید ہے اور۔اس طرح کئی امراض بدنی فائدہ مند ہے کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے ایسا پھول بنادے وہ ایسے مرتبہ کمال پر واقع ہے کہ ہر گز کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسا پھول بناوے کہ جو اس پھول کی طرح رنگ میں خوشنما اور خوشبو میں دلکش اور بدن میں نہایت ترو تازہ اور نرم اور نازک اور مصفا ہو۔اور باوجود اس کے باطنی طور پر تمام وہ خواص بھی رکھتا ہو جو گلاب کے پھول میں پائے جاتے ہیں۔کیوں گلاب کے پھول بنانے سے انسانی قوتیں عاجز ہیں کہ اُس کی نظیر بنا سکیں؟ ایسا پھول بنانا عا دتا ممتنع ہے اور آج تک کوئی حکیم اور فیلسوف کسی ایسی ترکیب سے کسی قسم کی ادویہ کو ہم نہیں پہنچا سکا کہ جن کے باہم مخلوط اور ممزوج کرنے سے ظاہر و باطن میں گلاب کے پھول کی سی صورت اور سیرت پیدا ہو جائے۔یہی وجوہ بے نظیری سورۃ فاتحہ میں بلکہ قرآن شریف کے ہر یک حصہ اقل قلیل میں کہ جو چار آیت سے بھی کم ہو پائی جاتی ہے۔پہلے ظاہری صورت پر نظر ڈال کر دیکھو کہ کیسی رنگینی عبارت اور سورۃ فاتحہ کی ظاہری صورت