براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 148
148 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام تھے۔ہاں عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کے باراں حواری بھی کچھ کچھ روحانی برکتوں کو ظاہر کیا کرتے تھے۔لیکن ان کا یہ بھی تو قول ہے کہ وہی عیسائی مذہب کے باراں امام آسمانی نوروں اور الہاموں کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے بعد آسمان کے دروازوں پر پکے قفل لگ گئے اور پھر کسی عیسائی پر وہ کبوتر نازل نہ ہوا کہ جو اول حضرت مسیح پر نازل ہو کر پھر آگ کے شعلوں کا بہروپ بدل کر حواریوں پر نازل ہو ا تھا۔گویا ایمان کا وہ نورانی دانہ کہ جس کے شوق میں وہ آسمانی کبوتر اترا کرتا تھا انہیں کے ہاتھ میں تھا اور پھر بجائے اس دانہ کے عیسائیوں کے ہاتھ میں دنیا کمانے کی بھائی رہ گئی جس کو دیکھ کر وہ کبوتر آسمان کی طرف اڑ گیا۔غرض بجز قرآن شریف کے اور کوئی ذریعہ آسمانی نوروں کی تحصیل کا موجود نہیں۔76 حضرت مرزا صاحب انجیل کی تعلیم کے متعلق براہین احمدیہ کے ایک دوسرے حاشیہ در حاشیہ نمبر 2 میں تحریر فرماتے ہیں : انجیل کی تعلیم کو کامل خیال کرناسر اسر نقصان عقل اور کم فہمی ہے۔خود حضرت مسیح نے انجیل کی تعلیم کو مبرا عن النقصان نہیں سمجھا جیسا کہ انہوں نے آپ فرمایا ہے کہ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں۔پر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنے روح الحق آوے گا۔تو وہ تمہیں تمام صداقت کا راستہ بتلادے گا۔انجیل یوحنا باب 16۔آیت 12،13،14۔اب فرمائیے کیا یہی انجیل ہے کہ جو تمام دینی صداقتوں پر حاوی ہے جس کے ہوتے ہوئے قرآن شریف کی ضرورت نہیں۔اے حضرات !! جس حالت میں آپ لوگ حضرت مسیح کی وصیت کے موافق انجیل کو کامل اور تمام صداقتوں کی جامع کہنے کے مجاز ہی نہیں۔تو پھر آپ کا ایمان بھی عجب ایمان ہے کہ اپنے استاد اور رسول کے بر خلاف قدم چلا رہے ہیں۔اور جس کتاب کو حضرت مسیح ناقص کہہ چکے ہیں اس کو کامل کہے جاتے ہیں۔کیا آپ کی سمجھ مسیح کی سمجھ سے کچھ زیادہ ہے یا مسیح کا کہنا قابل اعتبار نہیں۔اور اگر آپ یہ کہیں کہ اگر چہ انجیل مسیح کے زمانہ میں ناقص تھی۔مگر مسیح نے یہ بھی بطور پیشگوئی کے کہہ دیا تھا کہ جو باتیں میرے بیان کرنے سے رہ گئی ہیں۔ان کو تسلی دہندہ آکر بیان کر دے گا تو بہت خوب۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ تسلی دہندہ جس کے آنے کی مسیح نے انجیل میں بشارت دی ہے اور جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دینی صداقتوں کو مرتبہ کمال تک پہنچائے گا اور آئندہ کے حالات یعنے قیامت کی خبریں انجیل کی نسبت بہت مفصل بیان کرے گا۔آپ کے خیال میں بجز حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن شریف نازل ہوا کہ جو سب کتب سابقہ کی نسبت کامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا ثبوت دیتا ہے۔کوئی اور شخص ہے جس نے حضرت مسیح کے بعد ظہور کر کے دینی صداقتوں کو کمال کے مر تبہ تک پہنچایا۔اور آئندہ کی خبریں مسیح کی نسبت زیادہ بتلائیں تو اس کا نام بتلانا چاہئے اور ایسی کتاب کو پیش کرنا چاہئے کہ جو مسیح کے بعد عیسائیوں کو خدا کی طرف سے ملی جس نے وہ اپنی صداقتیں پیش کیں کہ جو مسیح کی فرمودہ ہیں موجود نہ تھیں اور آخری حالات اور آئندہ کی خبریں بتلائیں جن کے بتلانے سے مسیح قاصر رہا۔تا اُسی کتاب کو قرآن شریف کے مقابلہ پر وزن کیا جائے۔مگر یہ تو زیبا نہیں کہ آپ لوگ مسیح کے پیرو کہلا کر پھر اس چیز کو کامل قرار دیں جس کو آپ سے اٹھارہ سو بیاسی برس پہلے مسیح ناقص قرار دے چکا ہے اور اگر آپ کا مسیح کے قول پر ایمان ہی