بیت بازی — Page 811
811 ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ کیا کیا نہ ہم نے نام رکھائے زمانہ سے مردوں سے نیز فرقہ ناداں زنانہ سے کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے خود وہ کیونکر ہو مُرده؛ تب وہ راہ پاوے ہو؟ کوئی ہم کو بتاوے کہو زندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ کھل گئی ساری حقیقت سیف کی گم کرو اب ناز اس مُردار سے وہ جامِ صحت ہے کیوں زندگی کی چال سبھی فاسقانہ ہے کچھ اک نظر کرو؛ کہ یہ کیسا زمانہ ہے کچھ ایسے مست ہیں وہ رُخ خوب یار سے ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے کہتا ہے یہ تو بندہ عالی جناب ہے مجھ سے لڑو؛ اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے کھینچے گئے کچھ ایسے؛ کہ دنیا سے سوگئے کچھ ایسا نور دیکھا کہ اس کے ہی ہو۔ہو گئے کوشش بھی وہ ہوئی؟ کہ جہاں میں نہ ہو کبھی پھر اتفاق وہ؛ کہ زماں میں نہ ہو کبھی کوئی مُردوں سے کیونکر راہ پاوے مرے تب بے گماں مُردوں میں جاوے کہاں آیا کوئی؛ تا وہ بھی آوے کوئی اک نام ہی ہم کو بتاوے کچھ کچھ جو نیک مرد تھے؛ وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے؛ ظالم و سفاک ہوگئے کفر کے زہر کو یہ ہے تریاق ہر ورق اس کا کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے حیلے سب جاتے رہے؛ اک حضرت تو اب ہے بچاسکتی کیوں نہ آویں زلزلے، تقویٰ کی رہ گم ہوگئی اک مُسلماں بھی مسلماں صرف کہلانے کو ہے کس نے مانا مجھ کو ڈر کر کس نے چھوڑا بغض و کیں زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے کافرودجال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے ۴۴ کرتا ہے معجزوں سے وہ یار دیں کو تازہ اسلام کے چمن کی بادِ صبا یہی ہے رکس کام کا وہ دیں ہے؛ جس میں نشاں نہیں ہے دیں کی میرے پیارو! ذریں قبا یہی ہے کیڑا جو دب رہا ہے؟ گوبر کی تہ کے نیچے اُس کے گماں میں اُس کا ارض وسما یہی ہے کچھ گم نہیں جُنوں سے؛ یہ ہندوؤں کا ایشر سے؛ یہ ہندوؤں کا ایشر سچ پوچھیئے تو واللہ! بُت دوسرا یہی ہے کہنے کو دید والے؛ پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو؛ ان میں بھرا یہی ہے ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸