بیت بازی

by Other Authors

Page 763 of 871

بیت بازی — Page 763

763 ئن پہ کمخواب؛ پیٹ میں حلوان جال اُن کی وبال ہیں ایسے ۱۰۸ 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۵ ۱۰۹ توڑنے کو بھی دل نہیں کرتا یہ محبت کے جال ہیں ایسے تب کہیں جا کر ہوا حاصل وصالِ ذاتِ پاک مدتوں میں نے پرستش کی تری تصویر کی توبہ کی بیل چڑھنے لگی ہے منڈھے پر آج اے درد! میری آنکھ کا فوارہ چھوڑ دے تقویٰ کا جھنڈا جھکتا ہے ؛ پر گھر کی گڈی چڑھتی ہے اس دنیا میں اب نیکیوں کا؛ کوئی تو اللہ والی ہے تو مشرق کی بھی کہتا ہے تو مغرب کی بھی کہتا ہے مگر راز درونِ خانہ؛ پوشیدہ ہی رہتا ہے تو آزادی کا ٹھپہ کیوں غلامی پر لگاتا ہے غلاف فوصویت لے کے قرآن پر چڑھاتا ہے تیرے باپ دادوں کے مخزن مقفل تیرے دل کو بھائی ہے؛ دولت پرائی تو اک بار مجلس میں مجھ کو بُلا تو کروں گا نہ تجھ سے کبھی بے وفائی تعمیر کعبہ کیلئے کوئی جگہ تو ہو پہلے صنم کدہ کو گرانا ہی چاہیئے توحید کی ہو لب پہ شہادت؛ خُدا کرے ایمان کی ہو دل میں حلاوت؛ خُدا کرے تبلیغ دین و نشر ہدایت کے کام پر مائل تمھاری طبیعت؛ خُدا کرے رہے تم ہو خُدا کے ساتھ ؛ خُدا ہو تمھارے ساتھ ہوں تم سے ایسے وقت میں رخصت ؛ خُدا کرے تعلق کوئی بھی رکھنا نہ تم ، بغض وعداوت سے کہ مومن کو ترقی ملتی ہے؛ مہر و محبت سے 112 ۱۱۸ 119 ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ تیری یہ عاجزی بالا ہے ؛ سب دنیا کی عزت سے تجھے کیا کام ہے دُنیا کی رفعت اور شوکت سے ترا دشمن بڑائی چاہتا ہے؛ گر شرارت سے تو اس کا توڑ دے منہ تو ؛ محبت سے، مروت سے ترے در کے سوا دیکھوں نہ دروازہ کسی گھر کا کبھی مت کھینچیے ہاتھ اپنا تو میری کفالت سے ترے دشمن تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ جائیں گے نہ ڈر ان سے، کھڑا ہو سا منے تو اُن کے بجرأت سے تم نے بھی آگ بجھائی نہ کبھی آکے میری میری آنکھوں سے مرا دل؛ یہ گلہ کرتا ہے ہوئے ہیں سائے؛ ہماری قسمت میں تمھارے گھٹتے لکھا ہے؛ ہمارے بڑھتے ہوئے ہیں سائے تمھاری قسمت میں وہ لکھا ہے تیری عنایتوں نے دکھایا ہے یہ گمال أعداء سخت آج نگوں سار ہو گئے