بیت بازی

by Other Authors

Page 751 of 871

بیت بازی — Page 751

۵۳ ۵۴ ۵۵ 751 بڑھے اُس کا غم تو قرار کھو دے؛ ٹھیں وہ میرے ہاتھ اپنے لئے تو پھر بھی میرے لئے ہی دعا کرے غم کے خیال بڑا شور ہے میرے شہر میں کسی اجنبی کے نزول کا وہ میری ہی جان نہ ہو کہیں ، کوئی جاکے کچھ تو پتہ کرے بھلا کیسے اپنے ہی عکس کو میں رفیق جان بنا سکوں کوئی اور ہو تو بتا تو دے کوئی ہے کہیں تو صدا کرے باپ کی ایک غمزدہ بیٹی؛ دیر کے بعد مسکرائی ہے آنکھ نمناک ہے مگر پھر بھی مسکراہٹ کہوں پر آئی ہے ۵۷ بذل حق محمود سے میری کہانی کھو گئی بذل حق سے روٹھ کر وہ واصلِ حق ہوگئی بن کے تسکین، خود ان کے پہلو میں آ؛ دور کر یک بلا، یا بتا کتنے دن؛ ۵۶ ۵۸ ۵۹ บ ۶۲ ہیں، صبر کے امتحان کیلئے لاؤ کر، دے انہیں لوریاں، دل بڑھا اور بڑھے چلو براہِ دیں خوشا نصیب کہ تمہیں خلیفة اح کلام محمود ނ امیر کارواں ملے دیں تلاطم بحر ہستی میں کشتی دیں کیا ہے اپنی کچھ تم میں اگر بُوئے وفا ہے بھنور میں پھنس رہی ہے باز آؤ شرارتوں بجا لاؤ احکام احمد خدارا ذراسی بھی گر تم میں بُوئے وفا ہے ۶۳ کیا ہے بیا کیوں ہوا ہے یہ طوفاں یکایک بتاؤ تو اس بات کی وجہ بھٹکتے پھرتے ہیں راہ سے جو انہیں ہے یہ یار سے ملاتا جواں کے واسطے خضر رہ ہے؛ تو پیر کے واسطے عصا ہے ۶۵ بادشاہوں کو غرض پردہ سے کیا ہم نے کھینچی آپ ہی دیوار ہے ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۸ اک آفت سے ان کو ٹلاتا بلائے ہے؛ نا گہانی دل کو گلزار حقیقت لگائیں شاخ زھد اتقا کی بچاتا ہے ہر بنائیں ہے چین ہے جان حزیں حالت و ہماری زار ہے ۶۹ بلائے ناگہاں! بیٹھے ہیں ہم آغوشِ دلبر میں خبر بھی ہے تجھے کچھ تو کہیں آنکھیں دکھاتی ہے بیٹھ کر شیش محل میں نہ کرے نادانی سارکن قلعہ سارکن قلعہ پہ پتھر نہ چلائے کوئی اے باب رحمت بند کیجئے گا ایک امید وار رہتا ہے