بیت بازی

by Other Authors

Page 614 of 871

بیت بازی — Page 614

614 بٹھا : مسند ہمیشہ خیر بُرائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں خیر ہی ہی دیکھیں دیکھیں نگاہیں بنائے شرک کو ج ہلا دیں نشان گفر و بدعت کو مٹا دیں بڑھیں؛ اور ساتھ دنیا کو بڑھائیں پڑھیں؛ اور ایک عالم کو پڑھائیں بحرفت میں غوطہ لگانے کی دیر ہے منزل قریب تر ہے؛ وہ کچھ دُور ہی نہیں بگاڑے کوئی اُن کیلئے جو دنیا سے وہ سات پشت کو اُس کی سنوار دیتے ہیں یہ پاس اپنے؛ یہ میرا دل تو میرا ہی دل ہے؛ دے جگہ اپنی اجمن میں اسے تو رہنے دو میرے تن میں بڑھا کے نیکیاں میری؛ خطائیں کر کے معاف وہ اس ظہور گرم کو حساب کہتے ہیں بتاؤں تمھیں کیا؟ کہ کیا چاہتا ہوں ہوں بندہ؛ مگر میں خُدا چاہتا ہوں بادۂ عرفاں سے تیری؛ ان کے سر مخمور ہیں جذبہ الفت سے تیرے؛ ان کے دل معمور ہیں بار آور ہو جو ایسا کہ جہاں بھر کھائے دل میں میرے وہ شجر خیر کا؛ پیدا کردیں اٹھا کر مایکہ پر؛ لاکھ وہ خاطر کریں میری گدا پھر بھی گدا ہے اور سُلطاں پھر بھی ہے سُلطاں باغ کفار سے ہم نت نئے پھل کھاتے ہیں دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے جل جاتے ہیں بھلا مومن کو قاتل ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے نگا ہیں اُس کی بجلی ہیں؟ تو آہیں اُس کی شمشیریں ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۲