بیت بازی

by Other Authors

Page 511 of 871

بیت بازی — Page 511

511 ۳۳ ۳۴ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۴۰ میں نے روتے روتے دامن کر دیا گر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی باحال زار موت عیسی کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار ۳۵ مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا! جوش و تپش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار میں نہیں کہتا؟ کہ میری جاں ہے سب سے پاک تر میں نہیں کہتا؟ کہ یہ میرے عمل کے ہیں شمار میں نہیں رکھتا تھا اس دعوی سے اک ذرہ خبر کھول کر دیکھو براھیں کو؛ کہ تا ہو اعتبار مجھ کو ہے بس وہ خدا؛ عہدوں کی کچھ پروا نہیں ہو سکے؟ تو خود بنو مہدی بحکم کردگار مفت میں ملزم خدا کے مت بنو؛ اے منکرو! خدا کا ہے؛ نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار مٹ گئے خیلے تمہارے؛ ہوگئی محبت تمام اب کہو؛ کس پر ہوئی اے منکرو! لعنت کی مار مت کرو بگ بگ بہت اس کی دلوں پر ہے نظر دیکھتا ہے پاکی دل کو؛ نہ باتوں کی سنوار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہوگا؛ تو ہوگا اُس گھڑی باحال زار وہ تو پھرتا تھا دیوانہ وار نہ جی کو تھا چین؛ اور نہ دل کو قرار میں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی تر کر دیا پر نہیں ان خشک دل لوگوں کو خوف کردگار میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویراں ہے؛ اور دنیا کے ہیں عالی منار میلا تب خدا سے اُسے ایک پیر که چشتی طریقہ میں تھا دستگیر ۴۷ مگر یہ بھی ممکن ہے؛ اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ مگر ودر عدر میرے مولا اکٹھن ہے راستہ اس زندگانی کا ہے میرے ہر ہر قدم پر خود ره آسان پیدا کر مژده وصل لئے صبح مسرت آئی فضل مولا سے؛ ہوئی ڈور اداسی یک بار محبوب حقیقی کی امانت سے خبردار اے حافظ قرآن! خدا حافظ و ناصر میرے آقا! میرے عزیز و قدیر! میرے ولی و نصیر! میرے مولا! كلام طاهر ۵۲ مجھ سے عناد و بغض وعداوت ہے اُن کا دیں اُن سے مجھے کلام نہیں؛ لیکن اس قدر